Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
388 - 608
عیسائیوں  اور یہودیوں  سے دینی اُمور میں  بحث کرنے کا اختیار کس کو ہے؟
	امام عبد الله بن احمد نسفی رَحْمَۃُ الله تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’اس آیت سے کفار کے ساتھ دینی اُمور میں  مناظرہ کرنے کا جواز ،اوراسی طرح علمِ کلام سیکھنے کا جواز بھی ثابت ہوتا ہے ۔(1)
	یاد رہے کہ عیسائیوں  ، یہودیوں  اور دیگر کافروں  کے ساتھ دینی اُمور میں  بحث اور مناظرہ کرناان علماء کا کام ہے جو ان کے باطل عقائد و نظریات کا بہترین اور مضبوط دلائل کے ساتھ رد کر سکتے ہوں  اور ان کی طرف سے دین ِاسلام اور اس کی تعلیمات و اَحکام پر ہونے والے اعتراضات کا انتہائی تسلی بخش جواب دے سکتے ہوں  اورمناظرہ کے فن میں  بھی خوب مہارت رکھتے ہوں ۔جوعالِم ایسی صلاحیت نہ رکھتا ہو اسے اور بطورِ خاص عام لوگ جنہیں  عقائد و نظریات کی تفصیلی دلائل سے معلومات ہونا تو دور کی بات ،فرض عبادات سے متعلق شرعی احکام بھی ٹھیک سے معلوم نہیں  ہوتے، انہیں  یہودیوں ، عیسائیوں  اور دیگر کفار سے دینی اُمور میں  بحث مباحثہ کرنا حرام ہے اور ان لوگوں  کا یہ سوچ کر بحث کرنے کی جرأت کرنا کہ ہم اپنے دین،عقیدے اور نظریات میں  انتہائی مضبوط ہیں ،اس لئے یہودیوں ، عیسائیو ں  یا کسی اور کافر سے دینی امور میں  بحث کرنا ہمیں  کوئی نقصان نہیں  دے سکتا،دین و ایمان کی سلامتی کے حوالے سے انتہائی خطرناک اِقدام ہے اور ایسا شخص غیر محسوس انداز میں  ایمان کے دشمن شیطان کے انتہائی خوفناک وار کا شکار ہے، اگر یہ شخص اپنے دین و ایمان کی سلامتی چاہتا اور قیامت کے دن جہنم کے اَبدی عذاب سے بچنا چاہتاہے تو ان سے ہر گز بحث نہ کرے ورنہ اپنے ایمان کی خیر منائے۔افسوس!ہمارے معاشرے میں  شیطان کے کارندے لوگوں  کے دین و ایمان کو برباد کرنے کے لئے مصروفِ عمل ہیں  اور انتہائی مُنَظَّم انداز میں  مسلمانوں  کے دلوں  سے دین ِاسلام کی محبت اور اس دین کی طرف لگاؤ کو ختم کرنے کی کوششیں  کر رہے ہیں  لیکن مسلمان اپنے دین و ایمان کو بچانے کی کوشش کرنے کی بجائے اسے بے دھڑک خطرے پر پیش کئے جا رہے ہیں  ۔ الله تعالیٰ انہیں  ہدایت اور عقل ِسلیم عطا فرمائے اور اپنے ایمان کی سلامتی اور حفاظت کی فکر کرنے اور ا س کے لئے خوب کوشش کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
{وَ قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا: اور کہو:ہم اس پرایمان لائے جو ہماری طرف نازل کیا گیا۔} یعنی جب اہل ِکتاب تم سے اپنی کتابوں  کا کوئی مضمون بیان کریں  تو ان سے کہو:ہم اس پرایمان لائے جو ہماری طرف نازل کیا گیا اور جو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۴۶، ص۸۹۵۔