وَ قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ اِلٰهُنَا وَ اِلٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ(۴۶)
ترجمۂکنزالایمان: اور اے مسلمانو!کتابیوں سے نہ جھگڑو مگر بہتر طریقہ پر مگر وہ جنہوں نے اُن میں سے ظلم کیا اور کہو ہم ایمان لائے اس پر جو ہماری طرف اُترا اور جو تمہاری طرف اُترا اور ہمارا تمہارا ایک معبود ہے اور ہم اس کے حضور گردن رکھے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اے مسلمانو!اہلِ کتاب سے بحث نہ کرو مگر بہترین انداز پر سوائے ان میں سے ظالموں کے اور کہو:ہم اس پرایمان لائے جو ہماری طرف نازل کیا گیا اور جو تمہاری طرف نازل کیا گیا اور ہمارا اورتمہارا معبود ایک ہے اور ہم اس کے فرمانبردار ہیں ۔
{وَ لَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ: اور اے مسلمانو!اہل ِکتاب سے بحث نہ کرو مگر بہترین انداز پر۔} اس کا ایک معنی یہ ہے کہ اے مسلمانو! جب تمہاری اہلِ کتاب سے بحث ہو تو بہترین انداز سے بحث کرو جیسے انہیں الله تعالیٰ کی آیات سے دعوت دے کر اور حجتوں پر آگاہ کر کے الله تعالیٰ کی طرف بلاؤ،یونہی بحث کے دوران و ہ سختی سے پیش آئیں تو تم نرمی سے پیش آؤ،وہ غصہ کریں تو تم حِلم اور بُردباری کا مظاہرہ کروالبتہ ان میں سے جو ظالم ہیں کہ زیادتی میں حد سے گزر گئے ، عناد اِختیار کیا ، نصیحت نہ مانی ، نرمی سے نفع نہ اٹھایا تو ان کے ساتھ سختی اختیار کرو۔ دوسرا معنی یہ بھی ہے کہ وہ اہلِ کتاب جو ذِمّی ہیں اور جِزیَہ ادا کرتے ہیں ان کے ساتھ جب تمہاری بحث ہو تو احسن طریقے سے بحث کرو البتہ ان میں سے جن لوگوں نے ظلم کیا اور ذمہ سے نکل گئے اور جزیہ دینے سے منع کر دیا اور جنگ کے لئے تیار ہو گئے تو ان سے جھگڑنا تلوار کے ساتھ ہے ۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن،العنکبوت، تحت الآیۃ: ۴۶، ۳/۴۵۳، مدارک، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۴۶، ص۸۹۵، روح البیان، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۴۶، ۶/۴۷۷، ملتقطاً۔