(2)… حضرت ابوسعید خدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : رسولُ الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے سوال کیا گیا کہ قیامت کے دن الله تعالیٰ کے نزدیک کون سے بندے کادرجہ سب سے بلند ہوگا؟ارشاد فرمایا’’جو الله تعالیٰ کا بکثرت ذکرکرنے والے ہیں ۔ صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کی: یا رسولَ الله! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ان کا درجہ الله تعالیٰ کی راہ میں جہادکرنے والوں سے بھی زیادہ بلندہوگا؟ ارشاد فرمایا: ’’اگر وہ اپنی تلوارسے کفار اور مشرکین کو قتل کر دے حتّٰی کہ اس کی تلوارٹوٹ جائے اورخون سے رنگین ہوجائے پھر بھی الله تعالیٰ کابکثرت ذکرکرنے والے کادرجہ اس سے افضل ہوگا۔(1)
الله تعالیٰ ہمیں کثرت کے ساتھ اپنا ذکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
{وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ: اور الله جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔} یعنی الله تعالیٰ تمہارے ذکر وغیرہ نیک اعمال کو جانتا ہے، اس سے کوئی چیز بھی چھپی ہوئی نہیں ہے تو وہ تمہیں ان اعمال پر بہترین جزا دے گا۔(2)
ظاہر و باطن تمام احوال میں نیک اعمال کرنے کی ترغیب:
علمِ الٰہی کے متعلق مذکورہ بالاقسم کی آیات عموماً اس مفہوم کیلئے ہوتی ہیں کہ الله تعالیٰ کا علم اتنا وسیع ہے کہ وہ ہر بندے کے ہر ظاہری باطنی عمل کو جانتا ہے ،لہٰذاہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ ہر حال میں الله تعالیٰ کی نافرمانی کرنے سے بچے اور اپنے ظاہری باطنی تمام اَحوال میں نیک اور اچھے اعمال کرنے میں مصروف رہے۔ایک بزرگ فرماتے ہیں ’’اے لوگو! الله تعالیٰ تمام مقامات اور احوال میں تمہارے عملوں کو جانتا ہے تو جسے اس بات کا یقین ہو کہ الله تعالیٰ اس کا عمل جانتا ہے وہ گناہوں اور برے اعمال سے بچے اور تنہائی میں بھی طاعات ، عبادات اور بطورِ خاص نماز کی طرف متوجہ رہے۔(3) الله تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
وَ لَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ ﳓ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترمذی، کتاب الدعوات، ۵-باب منہ، ۵/۲۴۵، الحدیث: ۳۳۸۷۔
2…روح البیان، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۴۵، ۶/۴۷۶۔
3…روح البیان، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۴۵، ۶/۴۷۶۔