Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
384 - 608
ہمیں  پہچانتے ہی نہ تھے اور نہ ہم آپ کو پہچان پاتے تھے۔(1)
(2)…جب نماز کا وقت ہو جاتا تو حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم پر کپکپاہٹ طاری ہو جاتی اور چہرے کارنگ بدل جاتا۔ایک دن کسی نے پوچھا:اے امیر المؤمنین!آپ کو کیا ہوا؟فرمایا’’اس امانت کی ادائیگی کا وقت آگیا ہے جسے الله تعالیٰ نے آسمانوں ،زمین اور پہاڑوں  پر پیش کیا تو انہوں  نے اسے اٹھانے سے معذرت کر لی اور اسے اُٹھانے سے ڈر گئے ۔
(3)…حضرت علی بن حسین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے بارے میں  مروی ہے کہ جب آپ وضو کرتے تو آپ کا رنگ زرد ہو جاتا،جب گھر والے پوچھتے کہ آپ کو کیا ہو گیا ہے تو آپ فرماتے ’’کیاتمہیں  معلوم ہے کہ میں  کس کے سامنے کھڑا ہونے کا ارادہ کر رہا ہوں ۔
(4)…حضرت حاتم رَحْمَۃُ الله تَعَالٰی عَلَیْہِ سے ان کی نماز کے بارے میں  پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا’’جب نما زکا وقت ہو جاتاہے تو میں  مکمل وضو کرتا ہوں ، پھر ا س جگہ آ کر بیٹھ جاتا ہوں  جہاں  نماز پڑھنے کا ارادہ ہوتا ہے ، یہاں  تک کہ میرے اَعضا پُرسکون ہو جاتے ہیں  ،پھر میں  نماز کے لئے کھڑ اہوتا ہوں  ،کعبہ شریف کو آنکھوں  کے سامنے ،پل صراط کو قدموں  کے نیچے ،جنت کو دائیں  اور جہنم کو بائیں  طرف اور موت کے فرشتے کو اپنے پیچھے خیال کرتا ہوں  اور ا س نماز کو اپنی آخری نماز سمجھتا ہوں ،پھر امید اور خوف کے درمیان جذبات کے ساتھ کھڑ اہوتا ہوں ، حقیقی طور پر الله تعالیٰ کی بڑائی کا اعلان کرتا ہوں  ،قرآن مجید ٹھہر ٹھہر کر پڑھتا ہوں  ،رکوع عاجزی کے ساتھ اور سجدہ ڈرتے ہوئے کرتا ہوں ، بایاں پاؤں  بچھا کر اس پر بیٹھتا ہوں  ،دائیں  پاؤں  کو انگوٹھے پر کھڑ اکرتا ہوں  ، اس کے بعد اخلاص سے کام لیتا ہوں ، پھر مجھے معلوم نہیں  کہ میری نماز قبول ہوتی ہے یا نہیں ۔(2)
	 الله تعالیٰ ہمیں  صحیح طریقے سے نما زادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری نماز کو ہمارے حق میں  برائیوں  اور بے حیائیوں  سے بچنے کا ذریعہ بنائے ،آمین۔
 تلاوت ِقرآن اورنمازکی پابندی کے فوائد وبرکات :
	آیت میں  تلاوت ونماز دو عبادتوں  کا ذکر ہوا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ تلاوت ِقرآن اورنمازکی پابندی ایسی عبادتیں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…فیض القدیر، حرف الہمزۃ، ۳/۱۱۴، تحت الحدیث: ۲۸۲۱۔
2…احیاء علوم الدین، کتاب اسرار الصلاۃ ومہماتہا، الباب الاول، فضیلۃ الخشوع، ۱/۲۰۶۔