میں اس نے توبہ کر لی اور اس کا حال بہتر ہو گیا۔(1)
(2)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ،ایک شخص نے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی :فلاں آدمی رات میں نماز پڑھتا ہے اور جب صبح ہوتی ہے تو چوری کرتا ہے۔ ارشاد فرمایا: ’’عنقریب نماز اسے اس چیز سے روک دے گی جو تو کہہ رہا ہے۔(2)
ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو نماز پڑھنے کے باوجود گناہوں سے باز نہیں آتے اور بری عادتوں سے نہیں رکتے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگ اس طرح نماز نہیں پڑھتے جیسے نماز پڑھنے کا حق ہے مثلاً نماز کے ارکان و شرائط کو ان کے حقوق کے ساتھ اور صحیح طریقے سے ادا نہیں کرتے ،نماز میں خشوع و خضوع کی کَیفِیَّت ان پر طاری نہیں ہوتی اور نماز کی ادائیگی غفلت سے کرتے ہیں ،یہ ان کی نما زہوتی ہے جو ظاہری نماز تو ہے لیکن حقیقی اور کامل نماز نہیں ۔ حضرت حسن بصری رَحْمَۃُ الله تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :جس کی نماز اس کو بے حیائی اور ممنوعات سے نہ روکے وہ نماز ہی نہیں ۔(3)
اورحضرت عبد الله بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’جس شخص کو اس کی نماز بے حیائی اور برائی سے نہ روکے تو اسے الله تعالیٰ سے دوری کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا (کیونکہ ا س کی نماز ایسی نہیں جس پر ثواب ملے بلکہ وہ نماز اس کے حق میں وبال ہے اور اس کی وجہ سے بندہ عذاب کا حق دار ہے)(4)
لہٰذا جو شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ بے حیائیوں اور برائیوں سے باز آ جائے تو اس طرح نماز ادا کیا کرے جیسے نماز ادا کرنے کا حق ہے۔ترغیب کے لئے یہاں نماز سے متعلق حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور دیگر بزرگانِ دین کے احوال پر مشتمل 4 واقعات ملاحظہ ہوں ،
( 1)…حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ الله تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں :حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہم سے اور ہم آپ سے گفتگو کر رہے ہوتے تھے اور جب نماز کا وقت ہوتا تو (آپ الله تعالیٰ کی عظمت میں اس قدر مشغول ہو جاتے کہ) گویا آپ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ابو سعود، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۴۵، ۴/۲۶۱۔
2…مسند امام احمد، مسند ابی ہریرۃ رضی اللّٰہ عنہ، ۳/۴۵۷، الحدیث: ۹۷۸۵۔
3…درمنثور، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۴۵، ۶/۴۶۶۔
4…معجم الکبیر، طاوس عن ابن عباس، ۱۱/۴۶، الحدیث: ۱۱۰۲۵۔