ان کا رد کر دیا گیا کہ وہ جاہل ہیں جو مثال بیان کئے جانے کی حکمت کو نہیں جانتے ،کیونکہ مثال سے مقصود تفہیم ہوتی ہے اور جیسی چیز ہو اس کی شان ظاہر کرنے کے لئے ویسی ہی مثال بیان کرنا حکمت کے تقاضے کے عین مطابق ہے اور یہاں چونکہ بت پرستوں کے باطل اور کمزور دین کی کمزوری اوربُطلان بیان کرنا مقصود ہے لہٰذا اس کے اِظہار کے لئے یہ مثال انتہائی نفع مندہے اور ان مثالوں کی خوبی، نفاست،عمدگی ، ان کے نفع اور فوائد اور ان کی حکمت کو وہ لوگ سمجھتے ہیں جنہیں الله تعالیٰ نے عقل اور علم عطافرمایا ہے جیسا کہ یہاں بیان کی گئی مکڑی کی مثال نے مشرک اور الله تعالیٰ کی وحدانیّت کا اقرار کرنے والے کا حال خوب اچھی طرح ظاہر کر دیا اور فرق واضح فرما دیا ۔(1)
خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ۠(۴۴)
ترجمۂکنزالایمان: الله نے آسمان اور زمین حق بنائے بیشک اس میں نشانی ہے مسلمانوں کے لیے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: الله نے آسمان اور زمین حق بنائے، بیشک اس میں ایمان والوں کیلئے نشانی ہے۔
{خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ: الله نے آسمان اور زمین حق بنائے۔} یعنی الله تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو باطل نہیں بنایا بلکہ حکمت کے تحت بنایا ہے اور بے شک ان دونوں کی تخلیق میں مسلمانوں کے لئے الله تعالیٰ کی قدرت، حکمت، اس کی وحدانیّت اور یکتائی پر دلالت کرنے والی نشانی ضرور موجود ہے۔(2)
یاد رہے کہ آسمان و زمین کی پیدائش پر غور کرکے الله تعالیٰ کی معرفت صرف مومن ہی حاصل کرتے ہیں اس لئے یہاں انہیں کا ذکر ہواکہ اس میں مومنوں کیلئے نشانی ہے ورنہ عمومی طور پر یہ سب کے لئے عبر ت ہیں ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۴۳، ص۸۹۳، ملخصاً۔
2…مدارک، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۴۴، ص۸۹۴، خازن، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۴۴، ۳/۴۵۲، ملتقطاً۔