پارہ نمبر…21
اُتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَؕ-اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِؕ-وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ(۴۵)
ترجمۂکنزالایمان: اے محبوب پڑھو جو کتاب تمہاری طرف وحی کی گئی اور نماز قائم فرماؤبیشک نماز منع کرتی ہے بے حیائی اور بُری بات سے اور بیشک الله کا ذکر سب سے بڑا اور الله جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس کتاب کی تلاوت کروجو تمہاری طرف وحی کی گئی ہے اور نماز قائم کرو، بیشک نماز بے حیائی اور بری بات سے روکتی ہے اور بیشک الله کا ذکر سب سے بڑاہے اور الله جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔
{اُتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ: اس کتاب کی تلاوت کروجس کی تمہاری طرف وحی کی گئی ہے۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کی طرف جو قرآن مجید نازل کیا گیا ہے، اس کی تلاوت کرتے رہیں کیونکہ اس کی تلاوت عبادت بھی ہے ،اس میں لوگوں کے لئے وعظ و نصیحت بھی ہے اور اس میں احکام ، آداب اور اَخلاقی اچھائیوں کی تعلیم بھی ہے۔دوسری تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اگر آپ مکہ والو ں کے کفر پر اَفسُردہ ہیں توآپ اس کتاب کی تلاوت کریں جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے تاکہ آپ جان جائیں کہ آپ کی طرح حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور دیگر اَنبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھی نبوت اور رسالت کی ذمہ داری پر فائز تھے ،انہوں نے رسالت کی تبلیغ کی اور ( الله تعالیٰ کی قدرت اور وحدانیّت پر) دلائل قائم کرنے میں انتہائی کوشش کی لیکن ان کی قومیں گمراہی اور جہالت سے نہ بچ سکیں ،یوں آپ کے دل کو تسلی حاصل ہو گی۔(1)
قرآنِ مجید دیکھ کر پڑھنے کی فضیلت اور ترغیب:
اس آیت سے معلوم ہو اکہ نماز کے علاوہ بھی قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہنا چاہئے ۔یاد رہے کہ (نماز کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…روح البیان، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۴۵، ۶/۴۷۳، تفسیرکبیر، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۴۵، ۹/۶۰، ملتقطاً۔