انہیں (گھروں میں لگا ہوا) چھوڑ دینا ناداری کا باعث ہوتا ہے۔(1)
اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍؕ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(۴۲)
ترجمۂکنزالایمان: الله جانتا ہے جس چیز کی اُس کے سوا پوجا کرتے ہیں اور وہی عزت و حکمت والا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک الله جانتا ہے اس چیز کو جس کی وہ الله کے سوا پوجا کرتے ہیں اور وہی عزت والا حکمت والا ہے۔
{اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ: بیشک الله جانتا ہے۔} یعنی بت پرست الله تعالیٰ کی عبادت کرنے کی بجائے جس چیز کی پوجا کرتے ہیں الله تعالیٰ اسے جانتا ہے کہ وہ کچھ حقیقت نہیں رکھتی اور الله تعالیٰ ہی عزت والا حکمت والا ہے، تو کسی عقل مند انسان کے شایانِ شان یہ بات کب ہے کہ وہ عزت و حکمت والے ،قادر اورمختار رب تعالیٰ کی عبادت چھوڑ کر بے علم اور بے اختیار پتھروں کی پوجا کرے ۔(2)
وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِۚ-وَ مَا یَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ(۴۳)
ترجمۂکنزالایمان: اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان فرماتے ہیں اور اُنہیں نہیں سمجھتے مگر علم والے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یہ مثالیں ہیں جنہیں ہم لوگوں کے لیے بیان فرماتے ہیں اور انہیں علماء ہی سمجھتے ہیں ۔
{وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ: اور یہ مثالیں ہیں جنہیں ہم لوگوں کے لیے بیان فرماتے ہیں ۔} کفارِ قریش نے طنز کے طور پر کہا تھا کہ الله تعالیٰ مکھی اور مکڑی کی مثالیں بیان فرماتا ہے اور اس پر انہوں نے مذاق اڑایا تھا ۔ اس آیت میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۴۱، ص۸۹۳۔
2…مدارک، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۴۲، ص۸۹۳، خازن، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۴۲، ۳/۴۵۱، ملتقطاً۔