مَآءً طَهُوْرًاۙ(۴۸) لِّنُحْیِﰯ بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا وَّ نُسْقِیَهٗ مِمَّا خَلَقْنَاۤ اَنْعَامًا وَّ اَنَاسِیَّ كَثِیْرًا(۴۹)
ترجمۂکنزالایمان: اور وہی ہے جس نے ہوائیں بھیجیں اپنی رحمت کے آگے مژدہ سناتی ہوئی اور ہم نے آسمان سے پانی اُتارا پاک کرنے والا۔تاکہ ہم ا س سے زندہ کریں کسی مُردہ شہر کو اور اسے پلائیں اپنے بنائے ہوئے بہت سے چوپائے اور آدمیوں کو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہی ہے جس نے اپنی رحمت سے پہلے ہواؤں کو بھیجا جو خوشخبری دینے والی ہوتی ہیں اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی اتارا۔تاکہ ہم ا س کے ذریعے کسی مردہ شہر کو زندہ کریں اور وہ پانی اپنی مخلوق میں سے جانوروں اور بہت سے لوگوں کو پلائیں ۔
{وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ: اور وہی ہے جس نے ہواؤں کو بھیجا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ معبود صرف وہی ہے جس نے بارش ہونے سے پہلے ہواؤں کو بھیجا جو بارش آنے کی خوشخبری دینے والی ہوتی ہیں اور ہم نے آسمان کی طرف سے پانی اتارا جو کہ حَدَث و نجاست سے پاک کرنے والا ہے تاکہ ہم ا س پانی کے ذریعے خشکی سے بے جان ہو جانے والی سر زمین کو سرسبز وشاداب کر کے زندہ کردیں اور وہ پانی اپنی مخلوق میں سے جانوروں اور بہت سے لوگوں کو پلائیں ۔(1)
بارش اللہ تعالٰی کی عظیم نعمت ہے:
اس سے معلوم ہو اکہ بارش اللہ تعالٰی کی بڑی عظیم نعمت ہے اور اس کے بے شمار فوائد ہیں کہ اس کے ذریعے خشکی کی وجہ سے بے جان کھیتیاں سرسبز ہوکرزندہ ہوتی ہیں ، لوگوں کو پاکی حاصل کرنے اور دیگرضروریات کو پورا کرنے کیلئے پانی ملتا ہے اور مخلوقِ خدا سیراب ہوتی ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…روح البیان، الفرقان، تحت الآیۃ: ۴۸-۴۹، ۶/۲۲۳-۲۲۴۔