Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
378 - 608
مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوْتِۖۚ-اِتَّخَذَتْ بَیْتًاؕ-وَ اِنَّ اَوْهَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْكَبُوْتِۘ-لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ(۴۱)
ترجمۂکنزالایمان: ان کی مثال جنہوں  نے الله کے سوا اور مالک بنالئے ہیں  مکڑی کی طرح ہے اس نے جالے کا گھر بنایا اور بیشک سب گھروں  میں  کمزور گھر مکڑی کا گھر کیا اچھا ہوتا اگر جانتے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جنہوں  نے الله کے سوا اورمددگاربنارکھے ہیں ان کی مثال مکڑی کی طرح ہے،جس نے گھر بنایا اور بیشک سب گھروں  میں  کمزور گھر مکڑی کا گھرہوتا ہے۔کیا اچھا ہوتا اگر وہ جانتے۔
{مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ: جنہوں  نے الله کے سوا اورمددگاربنارکھے ہیں  ان کی مثال۔} یعنی وہ لوگ جنہوں  نے الله تعالیٰ کو واحد معبود ماننے کی بجائے بتوں  کو معبود بنا رکھا ہے اور ان کے ساتھ امیدیں  وابستہ کی ہوئی ہیں  اور در حقیقت ان بتوں  کے عاجز اور بے اختیار ہونے کی مثال مکڑی کی طرح ہے جس نے اپنے رہنے کے لئے جالے سے گھر بنایا جو کہ انتہائی کمزور ہے اور یہ گھر نہ اس سے گرمی دور کر سکتا ہے نہ سردی ، نہ گرد و غبار اور بارش وغیرہ کسی چیز سے اس کی حفاظت کر سکتا ہے، ایسے ہی یہ بت ہیں  کہ اپنے پجاریوں  کو کوئی نفع یا نقصان پہنچانے کی قدرت نہیں  رکھتے اور نہ ہی دنیا و آخرت میں  انہیں  کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں  اور بیشک سب گھروں  میں  کمزور گھر مکڑی کا گھرہوتا ہے اور ایسے ہی سب دینوں  میں  کمزور اور نِکَمّا دین بت پرستوں  کا دین ہے ۔کیا ہی اچھا ہوتا اگر وہ بت پرست یہ بات جانتے کہ ان کا دین اس قدر نکما ہے ۔(1)
مکڑی کے جالے رزق میں  تنگی کا سبب ہوتے ہیں :
	حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَاللہ تَعَالٰیوَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں : ’’اپنے گھروں  سے مکڑیوں  کے جالے دور کرو کیونکہ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۴۱، ۳/۴۵۱، مدارک، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۴۱، ص۸۹۳، ملتقطاً۔