الْاٰخِرَ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ(۳۶)فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ٘(۳۷)
ترجمۂکنزالایمان: مدین کی طرف اُن کے ہم قوم شعیب کو بھیجا تو اس نے فرمایا اے میری قوم الله کی بندگی کرو اور پچھلے دن کی امید رکھو اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو۔تو انھوں نے اُسے جھٹلایا تو اُنھیں زلزلے نے آلیا تو صبح اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: مدین کی طرف ان کے ہم قوم شعیب کو بھیجا تو اس نے فرمایا، اے میری قوم! الله کی بندگی کرو اور آخرت کے دن کی امید رکھو اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو۔ تو انہوں نے اسے جھٹلایا تو انہیں زلزلے نے آلیا تو صبح اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے۔
{وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا: مدین کی طرف ان کے ہم قوم شعیب کو بھیجا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو یاد کریں جنہیں ہم نے ان کے ہم قوم مَدیَن والوں کی طرف رسول بناکر بھیجا تو انہوں نے دین کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا: اے میری قوم! صرف الله تعالیٰ کی بندگی کرو اور قیامت کے دن سے ڈرتے ہوئے ایسے افعال بجا لاؤ جو آخرت میں ثواب ملنے اور عذاب سے نجات حاصل ہونے کا باعث ہوں اور تم ناپ تول میں کمی کر کے مدین کی سر زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو،تو ان لوگوں نے حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا اور اپنے فساد سے باز نہ آئے تو انہیں زلزلے کی صورت میں الله تعالیٰ کے عذاب نے آلیا یہاں تک کہ ان کے گھر ان کے اوپر گر گئے اور صبح تک ان کا حال یہ ہو گیا کہ وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل مردے بے جان پڑے رہ گئے۔(1)
وَ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ قَدْ تَّبَیَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ- وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…روح البیان،العنکبوت، تحت الآیۃ: ۳۶-۳۷، ۶/۴۶۸، جلالین، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۳۶-۳۷، ص۳۳۸، ملتقطاً۔