آیت ’’وَ لَمَّاۤ اَنْ جَآءَتْ رُسُلُنَا‘‘ سے معلوم ہونے والے احکام:
اس آیت سے تین باتیں معلوم ہوئیں ،
(1)… مہمان کی حفاظت اور توقیر میزبان کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
(2)… کبھی نبی عَلَیْہِ السَّلَام فرشتے کو نہیں بھی پہچانتے ،البتہ یاد رہے کہ جب وحی نازل ہونے کے وقت فرشتہ حاضر ہوتا ہے تو اس وقت نبی عَلَیْہِ السَّلَام فرشتے کو ضرور پہچانتے ہیں ،اگر اس وقت بھی نہ پہچانیں تو وحی قطعی نہ رہے گی۔
(3)… الله تعالیٰ کے مُقَرَّب بندے الله تعالیٰ کی عطا سے بندوں کو آنے والی مصیبتوں سے بچانے کی قدرت رکھتے ہیں اور بچاتے بھی ہیں ۔
وَ لَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْهَاۤ اٰیَةًۢ بَیِّنَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ(۳۵)
ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک ہم نے اس سے روشن نشانی باقی رکھی عقل والوں کے لیے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے عقل والوں کے لیے اس بستی میں روشن نشانی کو باقی رکھا۔
{وَ لَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْهَاۤ اٰیَةًۢ بَیِّنَةً: اور بیشک ہم نے اس بستی میں روشن نشانی کو باقی رکھا۔} بیشک ہم نے اس بستی میں ان لوگوں کے لیے روشن نشانی کو باقی رکھا جو اپنی عقل غورو فکر کرنے میں استعمال کرتے ہیں ۔اس نشانی کے بارے میں حضرت عبد الله بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں :وہ روشن نشانی حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے ویران مکان ہیں ۔ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد اس قوم کا عجیب و غریب واقعہ ہے اور ایک قول یہ ہے کہ روشن نشانی سے مراد وہ پتھر ہیں جو ان پر برسے تھے اور ان پتھروں پر ان لوگوں کے نام لکھے ہوئے تھے،یہ عرصۂ دراز تک باقی رہے اور حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے انہیں دیکھا تھا۔(1)
وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًاۙ-فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ ارْجُوا الْیَوْمَ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…روح البیان، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۳۵، ۶/۴۶۷، خازن، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۳۵، ۳/۴۵۰، ملتقطاً۔