طرح سے قبیح اور ممنوع تھے ، جیسے گالی دینا ، فحش بکنا ، تالی اور سیٹی بجانا ، ایک دوسرے کوکنکریاں مارنا ، راستہ چلنے والوں پر کنکری وغیرہ پھینکنا ، شرا ب پینا ، مذاق اڑانا، گندی باتیں کرنا اورایک دوسرے پر تھوکنا وغیرہ۔ حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اس پر انہیں ملامت کی تو ان کی قوم نے مذاق اڑانے کے طور پر یہ کہا : اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ یہ افعال قبیح ہیں اور ایسا کرنے والے پر عذاب نازل ہو گاتوہم پر الله تعالیٰ کا عذاب لے آؤ۔(1)
{قَالَ: عرض کی۔} جب حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اس قوم کے راہِ راست پر آنے کی کچھ امید نہ رہی تو آپ نے الله تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیـ:اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، عذاب نازل ہونے کے بارے میں میری بات پوری کر کے ان فسادی لوگوں کے مقابلے میں میری مدد فرما۔ الله تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔(2)
وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰىۙ-قَالُوْۤا اِنَّا مُهْلِكُوْۤا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِۚ-اِنَّ اَهْلَهَا كَانُوْا ظٰلِمِیْنَۚۖ(۳۱) قَالَ اِنَّ فِیْهَا لُوْطًاؕ-قَالُوْا نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَنْ فِیْهَا ﱞ لَنُنَجِّیَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ ﱪ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ(۳۲)
ترجمۂکنزالایمان: اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس مژدہ لے کر آئے بولے ہم ضرور اس شہر والوں کو ہلاک کریں گے بیشک اس کے بسنے والے ستم گار ہیں ۔کہا اس میں تو لوط ہے فرشتے بولے ہمیں خوب معلوم ہے جو کچھ اس میں ہے ضرور ہم اُسے اور اس کے گھر والوں کو نجات دیں گے مگر اس کی عورت کو وہ رہ جانے والوں میں ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشخبری لے کر آئے تو انہوں نے کہا: ہم ضرور اس شہر والوں کو ہلاک کرنے والے ہیں ۔ بیشک اس شہر والے ظالم ہیں ۔ فرمایا:اس میں تو لوط (بھی) ہے۔فرشتوں نے کہا: ہمیں خوب معلوم ہے جو کوئی اس میں ہے، ضرور ہم اسے اور اس کے گھر والوں کو نجات دیں گے سوائے اس کی بیوی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک،العنکبوت،تحت الآیۃ: ۲۸-۲۹، ص۸۹۱، خازن، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۲۸-۲۹، ۳/۴۴۹-۴۵۰، ملتقطاً۔
2…خازن، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۳۰، ۳/۴۵۰، جلالین، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۳۰، ص۳۳۷، ملتقطاً۔