Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
369 - 608
وَ تَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْكُمُ الْمُنْكَرَؕ-فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ(۲۹)قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ۠(۳۰)
ترجمۂکنزالایمان: اور لوط کو نجات دی جب اُس نے اپنی قوم سے فرمایا تم بیشک بے حیائی کا کام کرتے ہو کہ تم سے پہلے دنیا بھر میں  کسی نے نہ کیا۔ کیا تم مردوں  سے بدفعلی کرتے ہو اور راہ مارتے ہو اور اپنی مجلس میں  بری بات کرتے ہو تو اس کی قوم کا کچھ جواب نہ ہوا مگر یہ کہ بولے ہم پر الله کا عذاب لاؤ اگر تم سچے ہو۔ عرض کی اے میرے رب میری مدد کر ان فسادی لوگوں  پر۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور لوط کو (یاد کرو) جب اس نے اپنی قوم سے فرمایا: تم بیشک بے حیائی کا وہ کام کرتے ہوجو تم سے پہلے دنیا بھر میں  کسی نے نہ کیا۔ کیا تم مردوں  سے بدفعلی کرتے ہو اور راستہ کاٹتے ہو اور اپنی مجلسوں  میں  برے کام کو آتے ہو تو اس کی قوم کا کوئی جواب نہ تھا مگر یہ کہا: اگر تم سچے ہوتوہم پر الله کا عذاب لے آؤ۔ (لوط نے) عرض کی، اے میرے رب!ان فسادی لوگوں  کے مقابلے میں  میری مدد فرما۔
{وَ لُوْطًا: اور لوط کو۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو یاد کریں ، جب انہوں  نے اپنی قوم کو ملامت کرتے ہوئے فرمایا: بیشک تم بے حیائی کا وہ کام کرتے ہوجو تم سے پہلے دنیا بھر میں  کسی نے نہ کیا ۔کیا تم مردوں  سے بدفعلی کرتے ہو اورراہ گیروں  کو قتل کر کے اور ان کے مال لوٹ کر لوگوں  کاراستہ کاٹتے ہو اور اپنی مجلسوں  میں  برے کام اور بری باتیں  کرنے کو آتے ہو۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ لوگ مسافروں  کے ساتھ بد فعلی کرتے تھے حتّٰی کہ لوگوں  نے اس طرف گزرنا مَوقوف کر دیا تھا اور حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے لوگ بد فعلی کے علاوہ ایسے ذلیل افعال اور حرکات کے عادی تھے جو عقلی اور عُرفی دونوں