کے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔
{وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ: اور جب ہمارے فرشتے آئے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی خوشخبری لے کر آئے تو انہوں نے کہا: ہم ضرورحضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اس شہر والوں کو ہلاک کرنے والے ہیں ۔ بیشک اس شہر والے کفر اور طرح طرح کے گناہ کر کے اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں ۔ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان سے فرمایا:اس میں تو حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھی موجود ہیں جو کہ الله تعالیٰ کے نبی اور اس کے مُقَرَّب بندے ہیں ، پھر تم اس شہر والوں کو کیسے ہلاک کرو گے ۔فرشتوں نے کہا: جو کوئی اس شہر میں ہے وہ ہمیں خوب معلوم ہے اور ہم حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حال سے غافل نہیں ،ہم ضرور حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کے گھر والوں کو نجات دیں گے البتہ ان کی بیوی کو نجات نہیں دیں گے کیونکہ وہ عذاب میں مبتلا ہو جانے والوں میں سے ہے۔(1)
یہاں فرشتوں نے نجات دینے کی نسبت اپنی طرف کی ،اس سے معلوم ہوا کہ الله تعالیٰ کے بعض کام اس کے خاص بندوں کی طرف منسوب کئے جا سکتے ہیں کیونکہ نجات دینا در حقیقت الله تعالیٰ کا کام ہے مگر فرشتوں نے کہا ہم نجات دیں گے،لہٰذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ دوزخ سے نجات دیتے ہیں ۔ حضور اکرم صَلَّی الله تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جنت دیتے ہیں اورحضور انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مشکل کشائی کرتے ہیں ۔
وَ لَمَّاۤ اَنْ جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالُوْا لَا تَخَفْ وَ لَا تَحْزَنْ- اِنَّا مُنَجُّوْكَ وَ اَهْلَكَ اِلَّا امْرَاَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ(۳۳)اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰۤى اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ(۳۴)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۳۱-۳۲، ص۸۹۱، روح البیان، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۳۱-۳۲، ۶/۴۶۶، ملتقطاً۔