بجھانا، ثقیل بدن کا سایہ بننا، سورج کا سایہ اٹھادینا سب اللہ تعالٰی کی مشیت سے ہے، اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہے تو یہ تاثیریں ختم جائیں ۔
وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِبَاسًا وَّ النَّوْمَ سُبَاتًا وَّ جَعَلَ النَّهَارَ نُشُوْرًا(۴۷)
ترجمۂکنزالایمان: اور وہی ہے جس نے رات کو تمہارے لیے پردہ کیا اور نیند کو آرام اور دن بنایا اُٹھنے کے لیے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہی ہے جس نے رات کو تمہارے لیے پردہ اور نیند کو آرام بنایااور دن کو اٹھنے کے لیے بنایا۔
{وَ هُوَ الَّذِیْ: اور وہی ہے جس نے۔} ارشاد فرمایا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ وہی ہے جس نے رات کو تمہارے لیے اپنی تاریکی سے سب کچھ ڈھانپ دینے والاپردہ اور نیند کو تمہارے بدنوں کے لئے راحت اور کام کاج چھوڑ دینے کا وقت بنایااور دن کو نیند سے اٹھنے کے لیے بنایا تاکہ تم دن میں روزی تلاش کرو اور کام کاج میں مشغول ہو۔(1)
یہ آیت اللہ تعالٰی کی قدرت پر دلالت کرتی ہے اور اس آیت میں مخلوق پر اللہ تعالٰی کی نعمتوں کاا ظہار ہے کیونکہ رات کی تاریکی سے سب کچھ ڈھانپ دینے میں بے شمار دینی اور دُنْیَوی فوائد ہیں ۔اس آیت میں نیند کوموت سے اور بیداری کو زندگی سے تشبیہ دینے میں نصیحت حاصل کرنے والوں کیلئے بڑی نصیحت ہے (اور اس کے ذریعے وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کو آسانی سے سمجھ سکتے ہیں ۔) ایک مرتبہ حضرت لقمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے فرزند سے فرمایا: ’’جیسے سوتے ہو پھر اُٹھتے ہو، ایسے ہی مرو گے اور موت کے بعد پھر اُٹھو گے۔(2)
وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖۚ-وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، الفرقان، تحت الآیۃ: ۴۷، ۳/۳۷۴۔
2…مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۴۷، ص۸۰۵۔