وَالسَّلَام کے لئے سلامتی والی بنا کر انہیں بچا لیا۔بیشک جو الله تعالیٰ نے کیا اس میں ایمان والوں کیلئے الله تعالیٰ کی وحدانیّت اور قدرت پر دلالت کرنے والی ضرور عجیب عجیب نشانیاں ہیں ، جیسے آ گ کا اس کثرت کے باوجود اثر نہ کرنا اور سرد ہو جانا اوراس جگہ گلشن پیدا ہو جانا اور یہ سب پَل بھر سے بھی کم وقفے میں ہونا وغیرہ۔(1)
وَ قَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًاۙ-مَّوَدَّةَ بَیْنِكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاۚ-ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّ یَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا٘-وَّ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَۗۙ(۲۵)
ترجمۂکنزالایمان: اور ابراہیم نے فرمایا تم نے تو الله کے سوا یہ بت بنالیے ہیں جن سے تمہاری دوستی یہی دنیا کی زندگی تک ہے پھر قیامت کے دن تم میں ایک دوسرے کے ساتھ کفر کرے گا اور ایک دوسرے پر لعنت ڈالے گا اور تم سب کا ٹھکانا جہنم ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ابراہیم نے فرمایا: تم نے تو دنیاوی زندگی میں اپنی آپس کی دوستی کی وجہ سے الله کے سوا یہ بت (معبود) بنالئے ہیں پھر قیامت کے دن تم میں ایک دوسرے کا انکار کرے گا اور ایک دوسرے پر لعنت کرے گااور تم سب کا ٹھکانہ جہنم ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں ۔
{وَ قَالَ: اور ابراہیم نے فرمایا۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سلامتی کے ساتھ آگ سے باہر تشریف لے آئے تو آپ نے کفار سے فرمایا کہ ’’تم نے (کسی دلیل کے بغیر صرف) بتوں سے دوستی کی وجہ سے انہیں اپنا معبود تو بنا لیا لیکن یاد رکھو تمہاری یہ محض نام کی ظاہری دوستی بھی صرف دنیا کی زندگی تک رہے گی، پھر قیامت کے دن تمہارا حال یہ ہو گا کہ تم اپنے معبودوں کا انکار کر دو گے اور تمہارے معبود تمہاری عبادت کا انکار کر دیں گے، تم ایک دوسرے پر لعنت کرو گے اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کروگے، بت کہیں گے کہ تم لوگوں نے میری
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۲۴، ص۸۸۹، جلالین، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۲۴، ص۳۳۷، ملتقطاً۔