Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
364 - 608
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہ جنہوں  نے الله کی آیتوں  کا اور اس سے ملنے کا انکار کیا وہ وہی لوگ ہیں جو میری رحمت سے مایوس ہیں  اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
{وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ لِقَآىٕهٖۤ: اور وہ جنہوں  نے الله کی آیتوں  کا اور اس سے ملنے کا انکار کیا۔} یعنی جو لوگ قرآنِ مجید اور قیامت کے دن دوبارہ زندہ کئے جانے پر ایمان نہ لائے وہ وہی لوگ ہیں جو الله تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہیں  اور وہ اپنے کسی نیک عمل کی جزاء و ثواب کے قائل نہیں  کیونکہ جب وہ قیامت اور جنت کے ہی منکر ہیں  تو الله تعالیٰ کی رحمت اور جزاء کے قائل کیسے ہوسکتے ہیں  ایسے لوگوں  کے لیے جہنم کا دردناک عذاب ہے ۔
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا اقْتُلُوْهُ اَوْ حَرِّقُوْهُ فَاَنْجٰىهُ اللّٰهُ مِنَ النَّارِؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ(۲۴)
ترجمۂکنزالایمان: تو اس کی قوم کو کچھ جواب بن نہ آیا مگر یہ بولے اُنہیں  قتل کردو یا جلادو تو الله نے اُسے آگ سے بچالیا بیشک اس میں  ضرور نشانیاں  ہیں  ایمان والوں  کے لیے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو ابراہیم کی قوم کا کوئی جواب نہ تھا مگر یہ کہ انہوں  نے کہا: انہیں  قتل کردو یا جلادوتو الله نے انہیں  آگ سے بچالیا۔بیشک اس میں  ایمان والوں  کیلئے ضرور نشانیاں  ہیں ۔
{فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا: تو ابراہیم کی قوم کا کوئی جواب نہ تھا مگر یہ کہ انہوں  نے کہا۔} جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم کو ایمان کی دعوت دی ، الله تعالیٰ کی وحدانیّت پر دلائل قائم کئے اور نصیحتیں  فرمائیں  تو ا س کے جواب میں  ان لوگوں  نے کہا:انہیں  قتل کردو یا جلادو۔یہ انہوں  نے آپس میں  ایک دوسرے سے کہا یا سرداروں  نے اپنی پیروی کرنے والوں  سے کہا، بہرحال کچھ کہنے والے تھے اورکچھ اس پر راضی ہونے والے اس لئے وہ سب کہنے والوں  کے حکم میں  ہیں  ۔ان سب نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جلانے پر اتفاق کر لیا اور جب انہوں  نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو آ گ میں  ڈالا تو الله تعالیٰ نے اس آ گ کو ٹھنڈا کر کے اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ