Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
35 - 608
میں  مبتلا کرنے والی چیز سے بچتے ہیں ۔(1)
اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَیْفَ مَدَّ الظِّلَّۚ-وَ لَوْ شَآءَ لَجَعَلَهٗ سَاكِنًاۚ-ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْهِ دَلِیْلًاۙ(۴۵) ثُمَّ قَبَضْنٰهُ اِلَیْنَا قَبْضًا یَّسِیْرًا(۴۶)
ترجمۂکنزالایمان: اے محبوب کیا تم نے اپنے رب کو نہ دیکھا کہ کیسا پھیلا یاسایہ اور اگر چاہتا تو اسے ٹھہرایا ہوا کردیتا پھر ہم نے سورج کو اس پر دلیل کیا۔ پھر ہم نے آہستہ آہستہ اسے اپنی طرف سمیٹا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے حبیب! کیا تم نے اپنے رب کو نہ دیکھا کہ اس نے سائے کو کیسا دراز کیا؟ اور اگر وہ چاہتا تو اسے ٹھہرا ہوا بنادیتا پھر ہم نے سورج کو اس پر دلیل بنایا۔ پھر ہم نے آہستہ آہستہ اسے اپنی طرف سمیٹ لیا۔
{اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ: اے محبوب!کیا تم نے اپنے رب کو نہ دیکھا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کیا آپ نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو نہ دیکھا کہ اس کی صَنعت و قدرت کیسی عجیب ہے، اس نے سائے کو صبح صادق طلوع ہونے کے بعد سے لے کر سورج طلوع ہونے تک کیسا دراز کیا کہ اس وقت ساری روئے زمین میں  سایہ ہی سایہ ہوتا ہے نہ دھوپ ہے، نہ اندھیرا ہے۔ اور اگر اللہ تعالٰی چاہتا تو سائے کو ایک ہی حالت پر ٹھہرا ہوا بنادیتا کہ سورج طلوع ہونے سے بھی سایہ زائل نہ ہوتا۔پھر ہم نے سورج کو سائے پر دلیل بنایا کیونکہ اگرسورج نہ ہو تو سائے کا پتہ ہی نہ چلے۔پھر ہم نے آہستہ آہستہ اسے اپنی طرف سمیٹ لیا کہ طلوع کے بعد سورج جتنا اُونچا ہوتا گیا اتنا ہی سایہ سمٹتا گیا۔(2)
 اَشیاء کی طبعی تاثیریں  بھی اللہ تعالٰی کی مَشِیَّت کے تابع ہیں :
	اس سے معلوم ہوا کہ اشیاء کی طبعی تاثیریں  بھی اللہ تعالٰی کی مشیت کے تابع ہیں ، آگ کا جلانا، پانی کا پیاس
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، الفرقان، تحت الآیۃ: ۴۴، ۳/۳۷۴، مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۴۴، ص۸۰۴، ملتقطاً۔
2…مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۴۵-۴۶، ص۸۰۴-۸۰۵۔