والے یعنی حضر ت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام اور قرآن کو نازل فرمانے والے یعنی الله تعالیٰ کو اور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو گالیاں دیتے اور گلی کوچوں میں پہرہ بٹھا دیتے تا کہ قرآن کی آواز کسی کے کان میں نہ پڑنے پائے اور تالیاں پِیٹ پِیٹ کر اور سیٹیاں بجا بجا کر اس قدر شوروغُل مچاتے کہ قرآن کی آواز کسی کو سنائی نہیں دیتی تھی۔ حضور انور صَلَّی الله تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جب کہیں کسی عام مجمع میں یا کفار کے میلوں میں قرآن پڑھ کر سناتے یا دعوت ِایمان کا وعظ فرماتے تو آپ صَلَّی الله تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا چچاابولہب آپ کے پیچھے چِلا چِلاکر کہتا جاتا تھا کہ اے لوگو!یہ میرا بھتیجا جھوٹا ہے،یہ دیوانہ ہو گیا ہے،تم لوگ اس کی کوئی بات نہ سنو، (مَعَاذَ الله)۔ ایک مرتبہ حضور سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ’’ذو المجاز‘‘ کے بازار میں دعوتِ اسلام کا وعظ فرمانے کے لئے تشریف لے گئے اور لوگوں کو کلمۂ حق کی دعوت دی تو ابو جہل آپ صَلَّی الله تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر دُھول اڑاتا جاتا تھا اور کہتا تھا کہ اے لوگو!اس کے فریب میں مت آنا،یہ چاہتا ہے کہ تم لوگ لات و عُزّیٰ کی عبادت چھوڑ دو۔
حضور رحمت ِعالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ ساتھ غریب مسلمانوں پر بھی کفارِ مکہ نے ایسے ایسے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے کہ مکہ کی زمین بِلبِلا اُٹھی۔ یہ آسان تھا کہ کفارِ مکہ ان مسلمانوں کو ایک د م قتل کر ڈالتے مگر اس سے ان کافروں کے جوشِ انتقام کا نشہ نہیں اتر سکتا تھا کیونکہ کفار اس بات میں اپنی شان سمجھتے تھے کہ ان مسلمانوں کو اتنا ستاؤ کہ وہ اسلام کو چھوڑ کر پھر شرک و بت پرستی کرنے لگیں ، اس لئے قتل کر دینے کی بجائے کفارِ مکہ مسلمانوں کو طرح طرح کی سزاؤں اور ایذا رَسانیوں کے ساتھ ستاتے تھے اورکفارِ مکہ نے ان غریب مسلمانوں پر بے پناہ مَظالِم ڈھائے اور ایسے ایسے روح فَرسا اور جاں سوز عذابوں میں مبتلا کیا کہ اگر ان مخلص مسلمانوں کی جگہ پہاڑ بھی ہوتا تو شاید ڈگمگانے لگتا۔ صحرائے عرب کی تیز دھوپ میں جب کہ وہاں کی ریت کے ذرات تنور کی طرح گرم ہو جاتے، اس وقت ان مسلمانوں کی پشت کو کوڑوں کی مار سے زخمی کرکے اس جلتی ہوئی ریت پر پیٹھ کے بل لٹاتے اور سینوں پر اتنا بھاری پتھر رکھ دیتے کہ وہ کروٹ نہ بدلنے پائیں ، لوہے کو آگ میں گرم کرکے ان سے ان مسلمانوں کے جسموں کو داغتے، پانی میں اس قدرڈبکیاں دیتے کہ ان کا دم گھٹنے لگتا ،چٹائیوں میں ان مسلمانوں کو لپیٹ کر ان کی ناکوں میں دھواں دیتے جس سے سانس لینا مشکل ہو جاتا اور وہ کَرب و بے چینی سے بدحواس ہو جاتے۔الغرض سنگدل،بے رحم اور درندہ صفت کافروں نے ان غریب و بیکس مسلمانوں پر جبرو اِکراہ اور ظلم و ستم کی کوئی صورت باقی نہیں چھوڑی مگر ایک بھی مخلص