Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
355 - 608
مسلمان کے پائے اِستقامت میں  ذرہ برابر تَزَلْزُل پیدا نہیں  ہوا ۔
	 الله تعالیٰ ہمیں  آزمائشوں  اور مصیبتوں  پر صبر کرنے اور اپنے دین پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَ لْنَحْمِلْ خَطٰیٰكُمْؕ-وَ مَا هُمْ بِحٰمِلِیْنَ مِنْ خَطٰیٰهُمْ مِّنْ شَیْءٍؕ-اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ(۱۲)
ترجمۂکنزالایمان:  اور کافر مسلمانوں  سے بولے ہماری راہ پر چلو اور ہم تمہارے گناہ اٹھالیں  گے حالانکہ وہ اُن کے گناہوں  میں  سے کچھ نہ اٹھائیں  گے بیشک وہ جھوٹے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کافروں  نے مسلمانوں  سے کہا:ہماری راہ پر چلو اور ہم تمہارے گناہ اٹھالیں  گے حالانکہ وہ ان کے گناہوں  میں  سے کچھ بوجھ بھی نہ اٹھائیں  گے، بیشک وہ جھوٹے ہیں ۔
{وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا: اور کافروں  نے مسلمانوں  سے کہا۔} کفارِ مکہ نے قبیلہ قریش میں  سے ایمان لانے والوں  سے کہا تھا کہ تم ہمارا اور ہمارے باپ دادا کا دین اختیار کرو، تمہیں  الله تعالیٰ کی طرف سے جو مصیبت پہنچے گی اس کے ہم ذمہ دار ہیں  اور تمہارے گناہ ہماری گردن پر یعنی اگر ہمارے طریقہ پر رہنے سے الله تعالیٰ نے تمہاری گرفت فرمائی اور عذاب کیا تو تمہارا عذاب ہم اپنے اوپر لے لیں  گے۔ الله تعالیٰ نے ان کی بات کی انتہائی نفیس تردید فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ وقت آنے پر وہ لوگ ان کے گناہوں  میں  سے کچھ بوجھ بھی نہ اٹھائیں  گے، بیشک وہ اپنی بات میں  جھوٹے ہیں ۔(1)
وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ٘-وَ لَیُسْــٴَـلُنَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَمَّا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۱۲، ۳/۴۴۶۔