کو ظاہر کر دے گاجو صدق اور اخلاص کے ساتھ ایمان لائے اور آزمائش و مصیبت میں اپنے ایمان اور اسلام پر ثابت و قائم رہے اور ان لوگوں کو بھی ظاہر کر دے گا جو منافق ہیں اور انہوں نے مصیبت کی وجہ سے اسلام ترک کر دیااور دونوں فریقوں کو ان کے اعمال کی جزا دے گا ۔(1)
مَصائب و آلام میں ایمان پر ثابت قدم رہنے کی ترغیب:
اس آیت میں ہر مسلمان کے لئے یہ تنبیہ ہے کہ وہ دین کی وجہ سے آنے والی اَذِیَّتوں اور تکلیفوں پر صبر کرے اور مصائب و آلام کی وجہ سے سرمایۂ آخرت یعنی ایمان کو ہر گز ضائع نہ کر دے بلکہ اپنے ایمان اور اسلام پر ثابت قدم رہے اور اپنی ا س قیمتی ترین دولت کی بھر پور حفاظت کرے۔ایسی حالت میں ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ کائنات کے سردار، دو عالَم کے تاجدار ،حبیب ِپروردگار عَزَّوَجَلَّو صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور آپ کے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو راہِ خدا میں آنے والی تکلیفوں اور اِن پراُن عظیم ہستیوں کے صبر کرنے کو یاد کرے تاکہ دل کو تسلی ہو،تکلیفوں پر صبر کرنا آسان ہو اور ایما ن و اسلام پر ثابت قدمی نصیب ہو۔ترغیب کے لئے یہاں حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور آپ کے مخلص اور جانثار صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کوراہِ خدا میں آنے والی تکالیف کی جھلک اور ان کے صبر کا حال ملاحظہ ہو، چنانچہ سیرت کی کتابوں میں مذکور ہے کہ کفارِ مکہ خاندانِ بنو ہاشم کے انتقام اور لڑائی بھڑک اٹھنے کے خوف سے حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کوقتل تونہیں کرسکے لیکن طرح طرح کی تکلیفوں اور ایذا رَسانیوں سے آپ صَلَّی الله تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ظلم و ستم کا پہاڑ توڑنے لگے، چنانچہ یہ لوگ حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے کاہن، جادوگر، شاعر اور مجنون ہونے کا ہر کوچہ و بازار میں زور دار پروپیگنڈہ کرنے لگے۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پیچھے شریر لڑکوں کا غول لگا دیاجو راستوں میں آپ پر پھبتیاں کستے، گالیاں دیتے اور یہ دیوانہ ہے، یہ دیوانہ ہے ،کا شور مچا مچا کر آپ صَلَّی الله تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اوپر پتھر پھینکتے۔ کبھی کفارِ مکہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے راستوں میں کانٹے بچھاتے۔ کبھی آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مبارک جسم پر نجاست ڈال دیتے۔ کبھی آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو دھکا دیتے۔ کبھی آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مقدس اور نازک گردن میں چادر کا پھندہ ڈال کر گلا گھونٹنے کی کوشش کرتے۔ جب حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ قرآن شریف کی تلاوت فرماتے تو یہ کفار قرآن اور قرآن کو لانے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۱۱، ۳/۴۴۶، جلالین، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۱۱، ص۳۳۵، ملتقطاً۔