ضرور ی ہے جب تک وہ گناہ کا حکم نہ دے اور اگر وہ گناہ کا حکم دے تو نہ اس کی سنی جائے اور نہ اطاعت کی جائے۔(1)
(2)… حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَاللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے،حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’گناہ کے کاموں میں کسی کا حکم نہیں ماناجاتا بلکہ اطاعت تو نیک کاموں میں ہے۔(2)
(3)…حضرت عمران بن حصین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت نہیں ۔(3)
افسوس! فی زمانہ اس حوالے سے مسلمانوں کی صورت ِحال انتہائی نازک ہے اوردُنْیَوی مَنفعت کے حصول اور دنیا کے نقصان سے بچنے کی خاطر اپنے سیٹھ،افسر،حاکم اور دیگر لوگوں کی وہ باتیں بے دھڑک مانتے چلے جاتے ہیں جن میں الله تعالیٰ اور ا س کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نافرمانی کا حکم دیاگیا ہوتا ہے۔ الله تعالیٰ انہیں عقلِ سلیم اور ہدایت عطا فرمائے اور اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کرنے میں مخلوق کی اطاعت کرنے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
{وَ اِنْ جَاهَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ: اور اگر وہ تجھ سے کوشش کریں کہ توکسی کو میرا شریک ٹھہرائے جس کا تجھے علم نہیں ۔} اس کا معنی یہ ہے کہ حقیقت میں الله تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں ہے ا س لئے علم اور تحقیق کی بنا پر تو کوئی بھی کسی کو الله تعالیٰ کا شریک مان ہی نہیں سکتا کیونکہ اس کا شریک ہونامحال ہے اور جہاں تک علم کے بغیر محض کسی کے کہنے سے الله تعالیٰ کا شریک ماننے کا معاملہ ہے تو جس چیز کا علم نہ ہو اسے کسی کے کہنے سے مان لینا تقلید ہے اور توحید کے قطعی دلائل ہوتے ہوئے محض تقلید سے کسی کو الله تعالیٰ کا شریک مان لینا انتہائی مذموم اور قبیح ہے، لہٰذا اس میں کسی کی بھی بات نہیں مانی جائے گی حتّٰی کہ والدین کی بھی ا س معاملے میں ہر گز اطاعت نہیں کی جائے گی۔
وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِی الصّٰلِحِیْنَ(۹)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری، کتاب الاحکام، باب السمع والطاعۃ للامام ما لم تکن معصیۃ، ۴/۴۵۵، الحدیث: ۷۱۴۴۔
2…بخاری، کتاب اخبار الآحاد، باب ما جاء فی اجازۃ خبر الواحد الصدوق۔۔۔ الخ، ۴/۴۹۲، الحدیث: ۷۲۵۷۔
3…معجم الکبیر، عمران بن حصین یکنی ابا نجید۔۔۔ الخ، ہشام بن حسان عن الحسن عن عمران، ۱۸/۱۷۰، الحدیث: ۳۸۱۔