(1)…کافر والدین کا نفقہ بھی مسلمان اولاد پر لازم ہے۔
(2)…اگر کافر ماں باپ بت خانے وغیرہ سے گھر تک چھوڑنے کا کہیں تو انہیں گھر تک چھوڑے اور اگر وہ گھر سے بت خانے وغیرہ تک چھوڑنے کا کہیں تو انہیں نہیں چھوڑ سکتا کیونکہ گھر تک چھوڑنا گنا ہ نہیں اور بت خانے چھوڑنا گناہ ہے۔(1)
شرعی احکام کے مقابلے میں کسی کی اطاعت نہیں کی جائے گی:
اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شرعی احکام کے مقابلے میں کسی رشتہ دار کا کوئی حق نہیں ، لہٰذا اولاد پر لازم ہے کہ شریعت کی طرف سے اجازت کے بغیر صرف ماں باپ کے کہنے پر شرعی احکام مثلاً روزہ وغیرہ رکھنا نہ چھوڑے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُ الله تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’اطاعت ِوالدین جائزباتوں میں فرض ہے اگرچہ وہ خود مُرتکِبِکبیرہ ہوں ، ان کے کبیرہ کاوبال ان پر ہے مگراس کے سبب یہ اُمورِ جائزہ میں ان کی اطاعت سے باہرنہیں ہوسکتا، ہاں اگروہ کسی ناجائز بات کاحکم کریں تو اس میں ان کی اطاعت جائزنہیں ، لَاطَاعَۃَ لِاَحَدٍ فِیْ مَعْصِیَۃِاللہ تَعَالٰی ( الله تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی بھی شخص کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔)(2)
ماں باپ اگرگناہ کرتے ہوں ان سے بہ نرمی وادب گزارش کرے، اگرمان لیں بہتر ورنہ سختی نہیں کرسکتا بلکہ ان کے لئے دعا کرے، اوران کا یہ جاہلانہ جواب دینا کہ یہ توضرور کروں گا یا توبہ سے انکارکرنا دوسراسخت کبیرہ ہے مگر مُطْلَقاً کفرنہیں جب تک کہ حرامِ قطعی کوحلال جاننا یاحکمِ شرع کی توہین کے طور پرنہ ہو، اس سے بھی جائز باتوں میں ان کی اطاعت کی جائے گی ہاں اگر مَعَاذَ الله یہ انکاربروجہ ِکفر ہو تووہ مُرتَد ہوجائیں گے، اورمرتد کے لئے مسلمان پرکوئی حق نہیں ۔(3)
شرعی احکام کے مقابلے میں ماں باپ کی اطاعت کے حوالے سے شرعی حکم اوپر بیان ہوا اور ان کے علاوہ دیگر افراد جیسے سیٹھ،افسر،حاکم وغیرہ سے متعلق بھی یہی حکم ہے کہ ان میں سے جو کوئی بھی الله تعالیٰ کی نافرمانی کرنے کا کہے تو اس کی بات ہر گز نہیں مانی جائے گی ،یہاں اسی سے متعلق تین اَحادیث ملاحظہ ہوں ۔
(1)… حضرت عبد الله بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’پسندیدہ اور ناپسندیدہ تمام اُمور میں ہرمسلمان آدمی پر(امیر کی) بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا اس وقت تک
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…روح البیان، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۸، ۶/۴۵۰۔
2…مسند امام احمد، مسند البصریین، بقیۃ حدیث الحکم بن عمرو الغفاری رضی اللّٰہ عنہ، ۷/۳۶۳، الحدیث: ۲۰۶۷۹۔
3…فتاویٰ رضویہ، ۲۵/۲۰۴-۲۰۵۔