کے عیب بیان کیے جائیں یا اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو وہ اپنے غصہ پر قابو نہیں پاسکتا یاوہ شخص جو درہم یا دینار لینے کی طاقت رکھتے وقت اپنے اوپر کنٹرول نہیں کرسکتا بلکہ وہ اس پر ایک دیوانے کی طرح گرتا ہے اور تقویٰ و مُرَوَّت کو بھی بھول جاتا ہے یہ سب باتیں اس لیے ہوتی ہیں کہ خواہش کا دھواں دل کی طرف چڑھتا ہے حتّٰی کہ وہ تاریک ہوجاتا ہے اور اس سے معرفت کے انوارمٹ جاتے ہیں اوریوں حیائ، مروت اور ایمان مٹ جاتا ہے اور وہ شیطانی مراد کو حاصل کرنے کی کوشش کرنے لگ جاتاہے۔(1)
اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَهُمْ یَسْمَعُوْنَ اَوْ یَعْقِلُوْنَؕ-اِنْ هُمْ اِلَّا كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠(۴۴)
ترجمۂکنزالایمان: یا یہ سمجھتے ہو کہ ان میں بہت کچھ سنتے یا سمجھتے ہیں وہ تو نہیں مگر جیسے چوپائے بلکہ ان سے بھی بدتر گمراہ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یا کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ان میں اکثر لوگ سنتے یا سمجھتے ہیں ؟ یہ تو صرف جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر گمراہ ہیں ۔
{اَمْ تَحْسَبُ: یا یہ سمجھتے ہو۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، وہ مشرکین اپنی شدتِ عناد کی وجہ سے نہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بات سنتے ہیں ، نہ دلائل و بَراہین کو سمجھتے ہیں بلکہ یہ بہرے اور نا سمجھ بنے ہوئے ہیں ،یہ تو صرف جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر گمراہ ہیں کیونکہ چوپائے بھی اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی تسبیح کرتے ہیں اور جو انہیں کھانے کو دے اس کے فرمانبردار رہتے ہیں اور احسان کرنے والے کو پہچانتے اور تکلیف دینے والے سے گھبراتے ہیں ، نفع دینے والی چیز کی طلب کرتے، نقصان دینے والی چیز سے بچتے اور چراگاہوں کی راہیں جانتے ہیں ، یہ کفار ان سے بھی بدتر ہیں کہ نہ اللہ تعالٰی کی اطاعت کرتے ہیں ، نہ اس کے احسان کو پہچانتے ہیں ، نہ شیطان جیسے دشمن کی ضَرَررسانی کو سمجھتے ہیں ، نہ ثواب جیسی عظیم نفع والی چیز کے طالب ہیں نہ عذاب جیسی سخت نقصان دہ اور ہلاکت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…احیاء علوم الدین،کتاب شرح عجائب القلب،بیان سرعۃ تقلب القلب وانقسام القلوب فی التغییر والثبات،۳/۵۷-۵۸۔