Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
348 - 608
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم نے (ہر) انسان کو اپنے ماں  باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی تاکید کی اور (اے بندے!) اگر وہ تجھ سے کوشش کریں  کہ توکسی کو میرا شریک ٹھہرائے جس کا تجھے علم نہیں  تو تُو ان کی بات نہ مان۔میری ہی طرف تمہارا پھرنا ہے تو میں  تمہیں  تمہارے اعمال بتادوں  گا۔
{وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ حُسْنًا: اور ہم نے انسان کو اپنے ماں  باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی تاکید کی۔} شانِ نزول : یہ آیت اور سورئہ لقمان کی آیت نمبر14 اور سورئہ اَحقاف کی آیت نمبر15 حضرت سعد بن ابی وقاص رَضِیَاللہ تَعَالٰیعَنْہُ کے حق میں  اور دوسری روایت کے مطابق حضرت سعد بن مالک زہری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے حق میں  نازل ہوئیں  ۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی ماں  حمنہ بنت ِابی سفیان بن امیہ بن عبد ِشمس تھی اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سابقین اَوّلین صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ میں  سے تھے اور اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرتے تھے۔ جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے اسلام قبول کیا تو آپ کی والدہ نے کہا : تو نے یہ کیا نیا کام کیا! خدا کی قسم اگر تو اس سے باز نہ آیا تو نہ میں  کچھ کھاؤں  گی نہ پیوں  گی یہاں  تک کہ مرجاؤں  اوریوں  ہمیشہ کے لئے تیری بدنامی ہو اور تجھے ماں  کا قاتل کہا جائے۔ پھر اس بڑھیا نے فاقہ کیا اور ایک دن رات نہ کھایا، نہ پیا اور نہ سائے میں  بیٹھی، اس سے کمزورہوگئی۔ پھر ایک رات دن اور اسی طرح رہی، تب حضرت سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ اُس کے پاس آئے اور آپ نے اُس سے فرمایا کہ اے ماں  !اگر تیری 100جانیں  ہوں  اور ایک ایک کرکے سب ہی نکل جائیں  تو بھی میں  اپنا دین چھوڑ نے والا نہیں ، تو چاہے کھا ،چاہے مت کھا ۔جب وہ حضرت سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی طرف سے مایوس ہوگئی کہ یہ اپنا دین چھوڑنے والے نہیں  تو کھانے پینے لگی، اس پر الله تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور حکم دیا کہ والدین کے ساتھ نیک سلوک کیا جائے اور اگر وہ کفر و شرک کا حکم دیں  تو نہ مانا جائے۔(1)
کافر والدین کے حقوق سے متعلق 2شرعی احکام:
	اس سے معلوم ہوا کہ بندے کو ماں  باپ کا مادری پدری حق ضرور ادا کرنا چاہئے اگرچہ وہ کافر ہوں ۔اسی مناسبت سے یہاں  کافر والدین کے حقوق سے متعلق 2شرعی احکام ملاحظہ ہوں ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۸، ۳/۴۴۶۔