Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
346 - 608
والا، جاننے والا ہے۔
{مَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ اللّٰهِ: جو الله کی ملاقات کی امید رکھتا ہو۔} اس کا معنی یہ ہے کہ جو شخص دوبارہ زندہ کئے جانے اور حساب لئے جانے سے ڈرتا ہے اور الله تعالیٰ کی بارگاہ سے ثواب ملنے کی امید رکھتا ہے تو وہ سن لے کہ الله تعالیٰ نے ثواب اور عذاب کا جو وعدہ فرمایا ہے وہ ضرور پورا ہونے والا ہے، لہٰذا اسے چاہیے کہ اس کے لئے تیار رہے اور نیک اعمال کرنے میں  جلدی کرے اور الله تعالیٰ ہی بندوں  کے اقوال کو سننے والا اور ان کے افعال کو جاننے والا ہے۔(1)
وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ(۶)
ترجمۂکنزالایمان: اور جو الله کی راہ میں  کوشش کرے تو اپنے ہی بھلے کو کوشش کرتا ہے بیشک الله بے پرواہ ہے سارے جہان سے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جو کوشش کرے تو اپنے ہی فائدے کیلئے کوشش کرتا ہے،بیشک الله سارے جہانوں  سے بے پرواہ ہے۔
{وَ مَنْ جَاهَدَ فَاِنَّمَا یُجَاهِدُ لِنَفْسِهٖ: اور جو کوشش کرے تو اپنے ہی فائدے کیلئے کوشش کرتا ہے۔} ارشاد فرمایا کہ جو شخص الله تعالیٰ کے دشمنوں  سے جنگ کر کے یا نفس و شیطان کی مخالفت کر کے یا الله تعالیٰ کی اطاعت کرنے پر صابر اور قائم رہ کراس کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ اپنے ہی فائدے کے لئے کوشش کرتا ہے کیونکہ اس کا نفع اور ثواب اسے ہی ملے گا،بے شک الله تعالیٰ انسانوں  ،جنوں  اور فرشتوں  کے اعمال اور عبادات سے بے پرواہ ہے اور اس کا بندوں  کو کوئی حکم دینا اور کسی چیز سے منع فرمانا محض ان پر رحمت و کرم فرمانے کے لئے ہے۔(2)
وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۵، ۳/۴۴۵۔
2…خازن، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۶، ۳/۴۴۵، جلالین، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۶، ص۳۳۵، مدارک، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۶، ص۸۸۵، ملتقطاً۔