Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
344 - 608
وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِؕ-اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ‘‘(1)
یہاں  تک کہ رسول اور اس کے ساتھ ایمان والے کہہ اُٹھے:   الله کی مدد کب آئے گی؟ سن لو! بیشک الله کی مدد قریب ہے۔
	اور ارشاد فرماتا ہے:
’’وَ  كَاَیِّنْ  مِّنْ  نَّبِیٍّ  قٰتَلَۙ-مَعَهٗ  رِبِّیُّوْنَ  كَثِیْرٌۚ-فَمَا  وَ  هَنُوْا  لِمَاۤ  اَصَابَهُمْ  فِیْ  سَبِیْلِ  اللّٰهِ  وَ  مَا  ضَعُفُوْا  وَ  مَا  اسْتَكَانُوْاؕ-وَ  اللّٰهُ  یُحِبُّ  الصّٰبِرِیْنَ‘‘(2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کتنے ہی انبیاء نے جہاد کیا، ان  کے ساتھ بہت سے الله والے تھے تو انہوں  نے الله کی راہ میں  پہنچنے والی تکلیفوں  کی وجہ سے نہ تو ہمت ہاری اور نہ کمزوری  دِکھائی اور نہ (دوسروں  سے) دبے اور الله صبر کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔
	اورصحیح بخاری شریف میں  ہے،حضرت خباب بن الارت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ایک روز نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کعبہ شریف کے سائے میں  اپنی چادرسے تکیہ لگائے تشریف فرماتھے کہ ہم نے حاضر ِخدمت ہوکرعرض کی، یا رسولَ الله !صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، (ہم پرمصائب کی حد ہوگئی) ،آپ الله تعالیٰ سے ہمارے لئے مدد کیوں  طلب نہیں  فرماتے اور الله تعالیٰ سے ہمارے لیے کیوں  دعانہیں  فرماتے؟ تاجدارِ رسالت صَلَّی الله تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’(یہ مصیبتیں  صرف تم ہی برداشت نہیں  کررہے ہو بلکہ) تم سے پہلے لوگوں  میں  سے کسی شخص کے لیے گڑھاکھودا جاتا، پھراس گڑھے میں  اسے کمرتک گاڑدیتے ،پھرآری لاکراس کے سرپرچلائی جاتی اورکاٹ کراس کے دوحصے کردئیے جاتے، بعض پرلوہے کی کنگھیاں  چلائی جاتیں  جن سے ان کے گوشت اورہڈیوں  کواکھیڑکررکھ دیا جاتا، اس کے باوجودوہ مومن اپنے دین پرثابت قدم رہے، الله تعالیٰ کی قسم !یہ دین مکمل ہو کر رہے گا،یہاں  تک کہ اگر کوئی سوار صنعا سے حَضْرمَوت تک سفرکرے گاتواسے الله تعالیٰ کے سوا کسی کاخوف نہ ہوگا اور نہ اپنی بکریوں  پر بھیڑیے کا خوف ہو گا،لیکن تم جلد بازی سے کام لیتے ہو۔(3)
	 الله تعالیٰ ہمیں  عافیت عطا فرمائے اور اگر مَصائب و آلام آئیں  تو ان پر صبر کرنے اور دین ِاسلام کے احکامات
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بقرہ:۲۱۴۔
2…اٰل عمران:۱۴۶۔
3…بخاری، کتاب المناقب، باب علامات النبوّۃ فی الاسلام، ۲/۵۰۳، الحدیث: ۳۶۱۲۔