الْكٰذِبِیْنَ(۳)
ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک ہم نے ان سے اگلوں کو جانچا تو ضرور الله سچوں کو دیکھے گا اور ضرور جھوٹوں کو دیکھے گا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے ان سے پہلے لوگوں کوآزمایاتو ضرور ضرور الله انہیں دیکھے گا جو سچے ہیں اور ضرور ضرور جھوٹوں کو (بھی) دیکھے گا۔
{وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ: اور بیشک ہم نے ان سے پہلے لوگوں کو آزمایا۔} ارشاد فرمایا کہ بیشک ہم نے اس امت سے پہلے لوگوں کوطرح طرح کی آزمائشوں میں ڈالا لیکن وہ صدق و وفا کے مقام میں ثابت اور قائم رہے ،تو ضرور ضرور الله تعالیٰ انہیں دیکھے گا جو اپنے ایمان میں سچے ہیں اور ضرور ضرور ایمان میں جھوٹوں کو بھی دیکھے گا اور ان میں سے ہر ایک کا حال ظاہر فرما دے گا۔(1)
مصیبتوں پر صبر کرنے کی ترغیب:
اس سے معلوم ہوا کہ تمام امتوں میں کئی حکمتوں اور مَصلحتوں کے پیش ِنظر الله تعالیٰ کا یہ طریقہ جاری رہا ہے کہ وہ ایمان والوں کو آزمائشوں میں مبتلا فرماتا ہے ،لہٰذا اس کے برخلاف ہونے کی توقّع رکھناجائز نہیں اوریاد رہے کہ اس امت سے پہلے لوگوں پر انتہائی سخت آزمائشیں اور مصیبتیں آئی ہیں ،لیکن پہلے لوگوں نے ان مصیبتوں ا ور آزمائشوں پر صبر کیا اور اپنے دین پر اِستقامت کے ساتھ قائم رہے،یونہی ہم پر بھی آزمائشیں اور مصیبتیں آئیں گی تو ہمیں بھی چاہئے کہ سابقہ لوگو ں کی طرح صبر و ہمت سے کام لیں اور اپنے دین کے احکامات پر مضبوطی سے عمل کرتے رہیں ۔اسی سے متعلق ایک اور مقام پر الله تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْؕ-مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰى یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا تمہارا یہ گمان ہے کہ جنت میں داخل ہوجاؤ گے حالانکہ ابھی تم پر پہلے لوگوں جیسی حالت نہ آئی۔ انہیں سختی اور شدت پہنچی اور انہیں زور سے ہلا ڈالا گیا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۳، ص۸۸۴-۴۸۵۔