(3)…یہ آیتیں حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے غلام حضرت مہجع بن عبد الله رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے حق میں نازل ہوئیں ،یہ بدر میں سب سے پہلے شہید ہوئے اورسرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ ’’مہجع شہدا ء کے سردار ہیں اور اس اُمت میں سے جنت کے دروازے کی طرف پہلے وہ پکارے جائیں گے۔‘‘ ان کے والدین اور اُن کی بیوی کو ان کی شہادت کا بہت صدمہ ہوا تو الله تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ،پھران کی تسلی فرمائی۔(1)
ہرمسلمان کواس کی ایمانی قوت کے حساب سے آزمایا جاتا ہے:
اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کاان کی ایمانی قوت کے مطابق امتحان لینا ، الله تعالیٰ کاقانون ہے ۔ بیماری، ناداری، غربت، مصیبت، یہ سب رب تعالیٰ کی طرف سے آنے والی آزمائشیں ہیں جن سے مخلص اور منافق ممتاز ہو جاتے ہیں ۔یہاں آزمائشوں سے متعلق دو اَحادیث ملاحظہ ہوں ،
(1)…حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’بڑا ثواب ،بڑی مصیبت کے ساتھ ہے اور جب الله تعالیٰ کسی قوم سے محبت فرماتا ہے تو انہیں آزمائش میں مبتلا کرتاہے، پس جو ا س پر راضی ہوا اس کے لئے الله تعالیٰ کی رضا ہے اور جو ناراض ہوا اس کے لئے ناراضگی ہے۔(2)
(2)…حضرت سعد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ،میں نے عرض کی: یا رسولَ الله !صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، لوگوں میں سب سے زیادہ سخت آزمائش کس کی ہوتی ہے ؟آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی، پھر درجہ بدرجہ مُقَرَّب بندوں کی،آدمی کی آزمائش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے، اگر دین میں مضبوط ہو تو سخت آزمائش ہوتی ہے اور اگر دین میں کمزور ہو تو اس کے دین کے حساب سے آزمائش کی جاتی ہے۔بندے کے ساتھ یہ آزمائشیں ہمیشہ رہتی ہیں یہاں تک کہ وہ زمین پر ا س طرح چلتا ہے کہ ا س پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔(3)
الله تعالیٰ ہمیں آزمائشوں پر صبر کرنے اور اپنی رضاپر راضی رہنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۲، ص۸۸۴، خازن، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۲، ۳/۴۴۴-۴۴۵، ملتقطاً۔
2…ترمذی، کتاب الزہد، باب ما جاء فی الصبر علی البلائ، ۴/۱۷۸، الحدیث: ۲۴۰۴۔
3…ترمذی، کتاب الزہد، باب ما جاء فی الصبر علی البلائ، ۴/۱۷۹، الحدیث: ۲۴۰۶۔