Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
341 - 608
ترجمۂکنزالایمان: کیا لوگ اس گھمنڈ میں  ہیں  کہ اتنی بات پر چھوڑ دئیے جائیں  گے کہ کہیں  ہم ایمان لائے اور اُن کی آزمائش نہ ہوگی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: الم۔ کیا لوگوں  نے یہ سمجھ رکھاہے کہ انہیں  صرف اتنی بات پر چھوڑ دیا جائے گا کہ وہ کہتے ہیں  ہم ’’ایمان لائے‘‘ اور انہیں  آزمایا نہیں  جائے گا؟
{الٓمّٓۚ} یہ حروفِ مُقَطَّعات میں  سے ایک حرف ہے اور اس کی مراد الله تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔
{اَحَسِبَ النَّاسُ: کیا لوگوں  نے سمجھ رکھا ہے۔} ارشاد فرمایا کہ کیا لوگوں  نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ انہیں  صرف اتنی بات پر چھوڑ دیا جائے گا کہ وہ کہتے ہیں  ہم ’’ایمان لائے‘‘ اور انہیں  شدید تکالیف ،مختلف اَقسام کے مَصائب ،عبادات کے ذوق، شہوات کو ترک کرنے اور جان و مال میں  طرح طرح کی مشکلات سے آزمایا نہیں  جائے گا؟انہیں  ضرور آزمایا جائے گا تاکہ اُن کے ایمان کی حقیقت خوب ظاہر ہوجائے اور مخلص مومن اور منافق میں  امتیاز ظاہر ہوجائے۔
	اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کے شانِ نزول کے بارے میں  مختلف اَقوال ہیں ،ان میں  سے تین قول درج ذیل ہیں ،
(1)…یہ آیت اُن حضرات کے بارے میں  نازل ہوئی جو اسلام کا اقرار کرنے کے باوجود مکہ مکرمہ میں  تھے ،صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے اُنہیں  لکھاکہ جب تک ہجرت نہ کر لو اس وقت تک محض اقرار کافی نہیں  ،اس پر اُن صحابہ ٔکرام رَضِیَ الله تَعَالٰی عَنْہُمْ نے مکہ مکرمہ سے ہجرت کی اور مدینہ منورہ جانے کے ارادے سے روانہ ہوئے، مشرکین اُن کے پیچھے لگ گئے اور اُن سے لڑائی کی ،ان میں  سے بعض حضرات شہید ہوگئے اوربعض بچ کر مدینہ منورہ آئے، اُن کے حق میں  یہ دو آیتیں  نازل ہوئیں ۔ حضرت عبد الله بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں  کہ ان لوگوں  سے مراد سلمہ بن ہشام ، عیاش بن ابی ربیعہ ، ولید بن ولید اور عمار بن یاسر وغیرہ ہیں  جو مکہ مکرمہ میں  ایمان لائے۔
(2)…یہ آیتیں  حضرت عمار رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے حق میں  نازل ہوئیں  جو الله تعالیٰ کی عبادت کرنے کی وجہ سے ستائے جاتے تھے اور کفار انہیں  سخت ایذائیں  پہنچاتے تھے۔