اسی سلسلے میں الله تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور مسلمانوں کے سامنے حضرت نوح،حضرت ابراہیم، حضرت لوط،حضرت شعیب،حضرت ہود،حضرت صالح، حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعات بیان فرمائے تاکہ یہ جان جائیں کہ الله تعالیٰ نے انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مدد فرمائی اور انہیں جھٹلانے والوں کو ہلاک کر دیا۔
(5)…انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعات بیان کرنے کے دوران الله تعالیٰ کی قدرت اور وحدانیّت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے پر دلائل دئیے گئے ۔
(6)…اہلِ کتاب اور مشرکین کے اعتراضات کے جوابات دئیے گئے۔
(7)…کفار کے ظلم و ستم کا شکار مسلمانوں کو ہجرت کرنے کی ہدایت دی گئی اور ان کے لئے اجر و ثواب بیان کیا گیا۔
سورۂ قَصص کے ساتھ مناسبت:
سورۂ عنکبوت کی اپنے سے ماقبل سورت ’’قصص‘‘ کے ساتھ ایک مناسبت یہ ہے کہ سورۂ قصص میں عاجزی کرنے والے متقی لوگوں کا اچھا انجام بیان کیا گیا اور سورۂ عنکبوت میں نیک اعمال کرنے والے مسلمانوں کا اچھا انجام بیان ہو اہے۔دوسری مناسبت یہ ہے کہ سورۂ قصص میں حشر کا انکار کرنے والوں کے قول کا رد کیاگیا اور سورۂ عنکبوت میں بھی حشر کا انکار کرنے والوں کا رد کیا گیا ہے۔تیسری مناسبت یہ ہے کہ سورۂ قصص میں نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ہجرت کی طرف اشارہ ہے اور سورۂ عنکبوت میں مسلمانوں کی ہجرت کی طرف اشارہ ہے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ترجمۂکنزالایمان: الله کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: الله کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
الٓمّٓۚ(۱) اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَكُوْۤا اَنْ یَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ(۲)