سورۂ عنکبوت
سورۂ عنکبوت کا تعارف
مقامِ نزول:
سورئہ عنکبوت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے ۔(1)
آیات،کلمات اورحروف کی تعداد:
اس سورت میں 7رکوع،69آیتیں ،980کلمے اور 4165حروف ہیں ۔(2)
’’عنکبوت ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
عربی میں مکڑی کو عنکبوت کہتے ہیں اور اس سور ت کی آیت نمبر41 میں الله عَزَّوَجَلَّ نے شرک کے بطلان پر عنکبوت یعنی مکڑی کی مثال دی ہے اس مناسبت سے اس سورت کانام ’’سورئہ عنکبوت ‘‘رکھاگیاہے ۔
سورۂ عنکبوت کے مضامین:
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں توحید ورسالت،مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور اعمال کی جزاء ملنے پر دلائل دئیے گئے ہیں اور مصیبت و آزمائش وغیرہ ہر حال میں ایمان پر ثابت قدم رہنے کی ترغیب دی گئی ہے۔نیز اس سورت میں یہ مضامین بیان کئے گئے ہیں :
(1)…اس سورت کی ابتدائی آیات میں بتایا گیا کہ دنیا میں مسلمانوں کو سختیوں اور مصیبتوں کے ذریعے آزمایا جائے گا اوران سے پہلے لوگوں کو بھی آزمایا گیا تھا۔
(2)…اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرنے کا فائدہ اور ایمان قبول کر کے نیک اعمال کرنے کا صلہ بیان کیا گیا۔
(3)…والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کی حد بیان کی گئی۔
(4)…یہ بتایا گیا کہ انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی آزمائش مسلمانوں کے مقابلے میں انتہائی سخت ہوتی ہے اور