Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
33 - 608
دھوئیں  سے بھر جائیں  اوراس وجہ سے بندہ دیکھنے پر قدرت نہیں  رکھتا، شہوت کے غلبے سے بھی دل کی یہی حالت ہوتی ہے حتّٰی کہ دل سوچ وبچار کرنے کے قابل نہیں  رہتا اور اس کی بصیرت ختم ہو جاتی ہے اور اگر کوئی واعظ اسے حق بات بتا اور سنا دے تو وہ سمجھنے سے اندھا اور سننے سے بہرہ ہوجاتا ہے اورجب شہوت میں  ہیجان ہوتا ہے تو شیطان اس پر حملہ کرتا ہے،پھر اَعضاء خواہش کے مطابق حرکت کرتے ہیں  اور یوں  گناہ عالَمِ غیب سے ظاہر کی طرف آتا ہے اور یہ اللہ تعالٰی کی قضاء و قَدر سے ہوتا ہے۔ اسی قسم کے دل کی طرف اللہ تعالٰی کے اس ارشادِ گرامی میں  اشارہ ہے۔
’’اَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُؕ-اَفَاَنْتَ تَكُوْنُ عَلَیْهِ وَكِیْلًاۙ(۴۳) اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَهُمْ یَسْمَعُوْنَ اَوْ یَعْقِلُوْنَؕ-اِنْ هُمْ اِلَّا كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠‘‘(1)
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا تم نے اس آدمی کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنالیا ہے توکیا تم اُس پر نگہبان ہو؟یا کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ان میں  اکثر لوگ سنتے یا سمجھتے ہیں  ؟ یہ تو صرف جانوروں  کی طرح ہیں  بلکہ ان سے بھی بدتر گمراہ ہیں ۔
	اورارشادِباری تعالٰی ہے:
’’لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰۤى اَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ‘‘(2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک ان میں  اکثر پر (اللہ کے عذاب کی) بات ثابت ہوچکی ہے تو وہ ایمان نہ لائیں  گے۔
	اور ارشادِ باری تعالٰی ہے :
’’وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ‘‘(3)
ترجمۂکنزُالعِرفان:  اور تمہارا اُنہیں  ڈرانا اور نہ ڈرانا ان  پر برابرہے وہ ایمان نہیں  لائیں  گے۔
	اور کئی دل ایسے ہیں  کہ بعض خواہشات کی طرف نسبت کی صورت میں  ان کی یہ حالت ہوتی ہے جیسے کوئی شخص بعض چیزوں  سے پرہیز کرتا ہے لیکن جب وہ کسی حسین چہرے کو دیکھتا ہے تو اس کی آنکھ اور دل اس کے قابو میں  نہیں  رہتے، اس کی عقل چلی جاتی ہے اور دل کا ٹھہراؤ باقی نہیں  رہتا یا وہ شخص جاہ ومرتبے، حکومت اور تکبر کے سلسلے میں  اپنے دل کو قابو میں  نہیں  رکھ سکتا اور جب ان باتوں  کے اسباب ظاہر ہوتے ہیں  تو ضبط نہیں  کرسکتا یا اس شخص کی طرح ہے جس 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…فرقان:۴۳،۴۴۔
2…یس:۷۔
3…یس:۱۰۔