Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
336 - 608
ممکن ہے کہ اس آیت کا ظاہری معنی مراد ہو،اس صورت میں  آیت کا مطلب یہ ہو گا کہ اے حبیب ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ الله تعالیٰ کی رحمت کے علاوہ کسی اور سبب سے قرآن مجید ملنے کی امید نہ رکھتے تھے، اور جب الله تعالیٰ نے اپنی رحمت سے آپ کی طرف قرآن مجید نازل فرمایا ہے تو آپ پہلے کی طرح اب بھی کافروں  کے مددگار نہ ہونے پر قائم رہیں ۔
	یہ بھی ممکن ہے کہ یہاں  بظاہر خطاب حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ہو اور مراد آپ کی امت ہو، یعنی نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت کو یہ توقّع نہ تھی کہ انہیں  یہ کتاب عطا کی جائے گی لیکن الله تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صدقے ان پر رحمت فرمائی اور ان کی طرف قرآن مجید جیسی عظیم الشّان کتاب بھیجی، تواے بندے!جب تمہیں  ایسی عظیم نعمت ملی ہے تو تم ہر گز کافروں  کے مددگار نہ ہونا بلکہ ان سے جدا رہنا اور ان کی مخالفت کرتے رہنا۔
حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو وحی نازل ہونے سے پہلے اپنی نبوت کی خبر تھی:
	یاد رہے کہ اس آیت سے یہ ہر گز ثابت نہیں  ہوتا کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ وحی نازل ہونے سے پہلے اپنی نبوت سے خبردار نہیں  تھے کیونکہ یہاں  ظاہری اَسباب کے لحاظ سے وحی نازل ہونے کی امید کی نفی ہے اور کثیر دلائل سے یہ بات ثابت ہے کہ وحی نازل ہونے سے پہلے بھی آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنی نبوت کی خبر رکھتے تھے ،جیسے بحیرا راہب نے بچپن ہی میں  آپ کی نبوت کی خبر دے دی تھی،نسطورا راہب نے جوانی میں  آپ کی نبوت کی خبر دی اور حضرت جابر بن سمرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’میں  مکہ میں  ایک پتھر کو پہچانتا ہوں  جو میری بِعثَت (اعلانِ نبوت) سے پہلے مجھ پر سلام عرض کیا کرتا تھا اور میں  اب بھی اسے پہچانتا ہوں ۔(1)
	حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں  :صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کی: یا رسولَ الله! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کے لئے نبوت کب واجب ہوئی؟ارشاد فرمایا: ’’جس وقت حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام روح اور جسم کے درمیان تھے۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسلم، کتاب الفضائل، باب فضل نسب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔۔۔ الخ، ص۱۲۴۹، الحدیث: ۲(۲۲۷۷)۔
2…ترمذی ، کتاب المناقب عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، باب ما جاء فی فضل النبیصلی اللّٰہ علیہ وسلم ، ۵ / ۳۵۱ ، الحدیث: ۳۶۲۹۔