Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
335 - 608
اِلٰى مَعَادٍ‘‘
ہے وہ آپ کو لوٹنے کی جگہ ضرور واپس لے جائے گا ۔
	یاد رہے کہ اس آیت میں  مذکور لفظ ’’مَعَادٍ‘‘ کی ایک تفسیر اوپر بیان ہوئی کہ اس سے مراد مکہ مکرمہ ہے اور بعض مفسرین نے اس سے موت ، قیامت اور جنت بھی مراد لی ہے ۔(1)
{قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ: تم فرماؤ :میرا رب خوب جانتا ہے۔} شانِ نزول: آیتِ مبارکہ کا یہ حصہ ان کفارِ مکہ کے جواب میں  نازِل ہواجنہوں  نے سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بارے میں  مَعَاذَ الله یہ کہا: ’’اِنَّکَ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ‘‘ یعنی آپ ضرور کھلی گمراہی میں  ہیں ۔ان کے جواب میں  الله تعالیٰ نے ارشاد فرمایاکہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان سے فرما دیں  کہ میرا رب عَزَّوَجَلَّ اسے خوب جانتا ہے جو ہدایت لایا ہے اوراسے بھی خوب جانتا ہے جو کھلی گمراہی میں  ہے ۔یعنی میرا رب عَزَّوَجَلَّ جانتا ہے کہ میں  ہدایت لایا ہوں  اور میرے لئے اس کا اجر و ثواب ہے جبکہ مشرکین کھلی گمراہی میں  ہیں  اور وہ سخت عذاب کے مستحق ہیں ۔(2)
وَ مَا كُنْتَ تَرْجُوْۤا اَنْ یُّلْقٰۤى اِلَیْكَ الْكِتٰبُ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ ظَهِیْرًا لِّلْكٰفِرِیْنَ٘(۸۶)
ترجمۂکنزالایمان: اور تم امید نہ رکھتے تھے کہ کتاب تم پر بھیجی جائے گی ہاں  تمہارے رب نے رحمت فرمائی تو تم ہرگز کافروں  کی پشتی نہ کرنا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تم امید نہ رکھتے تھے کہ تمہاری طرف کوئی کتاب بھیجی جائے گی لیکن تمہارے رب کی طرف سے رحمت ہے تو تم ہرگز کافروں  کا مددگار نہ ہونا۔
{وَ مَا كُنْتَ تَرْجُوْۤا اَنْ یُّلْقٰۤى اِلَیْكَ الْكِتٰبُ: اور تم امید نہ رکھتے تھے کہ تمہاری طرف کوئی کتاب بھیجی جائے گی۔}
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، القصص، تحت الآیۃ: ۸۵، ص۸۸۲، خازن، القصص، تحت الآیۃ: ۸۵، ۳/۴۴۳-۴۴۴، ملتقطاً۔
2…خازن، القصص، تحت الآیۃ: ۸۵، ۳/۴۴۴، مدارک، القصص، تحت الآیۃ: ۸۵، ص۸۸۳، ملتقطاً۔