Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
337 - 608
	ان تمام اَحادیث میں  اس بات کی مضبوط دلیل ہے کہ رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو وحی نازل ہونے سے پہلے اپنے نبی ہونے کا علم تھا،لہٰذا یہ نظرِیّہ ہر گز درست نہیں  کہ حضورِ انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو وحی نازل ہونے کے بعد اپنے نبی ہونے کا علم ہو اتھا۔
وَ لَا یَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَیْكَ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ(۸۷)
ترجمۂکنزالایمان: اور ہرگز وہ تمہیں  الله کی آیتوں  سے نہ روکیں  بعد اس کے کہ وہ تمہاری طرف اتاری گئیں  اور اپنے رب کی طرف بلاؤ اور ہرگز شرک والوں  میں  نہ ہونا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہرگز وہ تمہیں  الله کی آیتوں  سے نہ روکیں  اس کے بعد کہ وہ تمہاری طرف نازل کی جاچکی ہیں  اور اپنے رب کی طرف بلاؤ اور ہرگز شرک والوں  میں  سے نہ ہونا۔
{وَ لَا یَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ: اور ہرگز وہ تمہیں اللہ کی آیتوں  سے نہ روکیں ۔} ارشاد فرمایاکہ جب الله تعالیٰ کی آیتیں  تمہاری طرف نازل ہو چکی ہیں  تو اس کے بعد ہر گزتم قرآن مجید کے معاملے میں  کفار کی گمراہ کُن باتوں  کی طرف توجہ نہ کرنا اور انہیں  ٹھکرا دینا اور تم مخلوق کو الله تعالیٰ کی وحدانیَّت پر ایمان لانے اور اس کی عبادت کرنے کی دعوت دو اور ہرگز شرک کرنے والوں  کی مدد اور موافقت کر کے ان میں  سے نہ ہونا۔حضرت عبد الله بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں  کہ یہ خطاب ظاہر میں  نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ہے اوراس سے مراد مومنین ہیں ۔(1)
وَ لَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَۘ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۫-كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗؕ-لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۠(۸۸)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…جلالین، القصص، تحت الآیۃ: ۸۷، ص۳۳۴، خازن، القصص، تحت الآیۃ: ۸۷، ۳/۴۴۴، ملتقطاً۔