تھے اور الله تعالیٰ کے فضل و رحمت سے اسے اس کے گناہوں کے مطابق ہی سز املے ،گی اس میں اضافہ نہ ہو گا۔(1)
اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍؕ-قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ مَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى وَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ(۸۵)
ترجمۂکنزالایمان: بیشک جس نے تم پر قرآن فرض کیا وہ تمہیں پھیر لے جائے گا جہاں پھرنا چاہتے ہو تم فرماؤ میرا رب خوب جانتا ہے اسے جو ہدایت لایا اور جو کھلی گمراہی میں ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک جس نے آپ پر قرآن فرض کیا ہے وہ آپ کو لوٹنے کی جگہ ضرور واپس لے جائے گا ۔تم فرماؤ: میرا رب خوب جانتا ہے جو ہدایت لایا ہے اوراسے بھی جو کھلی گمراہی میں ہے۔
{اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ: بیشک جس نے آپ پر قرآن فرض کیا ہے۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی الله تَعَالٰی عَلَیْہِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، بے شک جس نے آپ پر قرآنِ مجید کی تلاوت اور تبلیغ کرنا اور اس کے اَحکام پر عمل کرنا لازم کیا ہے وہ آپ کو لوٹنے کی جگہ مکہ مکرمہ میں ضرور واپس لے جائے گا ۔مراد یہ ہے کہ الله تعالیٰ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو فتح ِمکہ کے دن مکہ مکرمہ میں بڑی شان و شوکت، عزت و وقار اور غلبہ و اِقتدار کے ساتھ داخل کرے گا، وہاں کے رہنے والے سب آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے زیرِ فرمان ہوں گے، شرک اور اس کے حامی ذلیل و رسوا ہوں گے ۔
شانِ نزول:یہ آیت ِکریمہ جُحْفَہ کے مقام پر اس وقت نازِل ہوئی جب رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرتے ہوئے وہاں پہنچے اور آپ کو اپنے اور اپنے آباء کی ولادت گاہ مکہ مکرمہ کا شوق ہوا تو حضرت جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام آئے اور انہوں نے عرض کی: کیا حضور کو اپنے شہر مکہ مکرمہ کا شوق ہے ؟ارشاد فرمایا: ’’ہاں ۔ انہوں نے عرض کی الله تعالیٰ فرماتا ہے:
’’ اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّكَ
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک جس نے آپ پر قرآن فرض کیا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…روح البیان، القصص، تحت الآیۃ: ۸۴، ۶/۴۳۹۔