نعمت سے محروم رہ سکتا ہے جبکہ عاجزی و اِنکساری کرنا اور معاشرے میں امن و سکون کی فضا پیدا کرنا اتنے عظیم کام ہیں کہ ان کی بدولت بندہ جنت جیسی انتہائی عظمت و شان والی نعمت پا سکتا ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے قول اور فعل سے کسی طرح تکبر کا اظہار نہ کرے ،یونہی معاشرے میں گناہ اور ظلم و زیادتی کے ذریعے فساد پھیلانے کی کوشش نہ کرے۔ حضرت عیاض بن حمار رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ الله تعالیٰ نے مجھے وحی فرمائی (میں تم لوگوں کو حکم دوں ) کہ اِنکسار ی کرو حتّٰی کہ تم میں سے کوئی کسی پر فخر نہ کرے اور نہ کوئی کسی پر ظلم کرے۔(1)
مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَاۚ-وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزَى الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۸۴)
ترجمۂکنزالایمان: جو نیکی لائے اس کے لیے اس سے بہتر ہے اور جو بدی لائے تو بدکام والوں کو بدلہ نہ ملے گا مگر جتنا کیا تھا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جو نیکی لائے گااس کے لیے اس سے بہتربدلہ ہے اور جو برائی لائے توبراکام کرنے والوں کو اتنا ہی بدلہ دیا جائے گا جتنا وہ کرتے تھے۔
{مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا: جو نیکی لائے گااس کے لیے اس سے بہتربدلہ ہے۔} یعنی قیامت کے دن جو شخص ایمان اور نیک اعمال لے کر بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہو گا تو اس کے لئے اس نیکی سے بہتر بدلہ ہے کہ اسے ایک نیکی کا ثواب کم ازکم دس گنا ملے گا اور زیادہ کی کوئی حد نہیں ،پھر یہ ملنے والا ثواب دائمی ہے ، کبھی فنا نہ ہو گا اور یہ ثواب اس کے خیال و گمان سے بالا تر ہو گا اور جو برے اعمال لے کرحاضر ہو گا تو براکام کرنے والوں کو اتنا ہی بدلہ دیا جائے گا جتنا وہ کرتے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسلم ، کتاب الجنّۃ و صفۃ نعیمہا و اہلہا ، باب الصفات التی یعرف بہا فی الدنیا اہل الجنّۃ ۔۔۔ الخ ، ص ۱۵۳۳ ، الحدیث: ۶۴(۲۸۶۵)۔