اپنی اس آروز پر نادم ہو کر کہنے لگے :عجیب بات ہے کہ الله تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کیلئے چاہتا ہے رزق وسیع کر دیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ فرمادیتا ہے۔ اگر الله تعالیٰ ہمیں ایمان کی دولت عطا فرما کر ہم پراحسان نہ فرماتا تو ہم بھی قارون کی طرح زمین میں دھنسادئیے جاتے ۔بڑی عجیب بات ہے کہ کافر کامیاب نہیں ہوتے اور انہیں الله تعالیٰ کے عذاب سے نجات نہیں ملتی۔(1)
تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳)
ترجمۂکنزالایمان: یہ آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یہ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کے لیے بناتے ہیں جو زمین میں تکبر اور فساد نہیں چاہتے اوراچھا انجام پرہیزگاروں ہی کیلئے ہے۔
{تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ: یہ آخرت کا گھر۔} ارشاد فرمایا کہ آخرت کا گھر جنت جس کی خبریں تم نے سنیں اور جس کے اوصاف تم تک پہنچے ،اس کا مستحق ہم ان لوگوں کو بناتے ہیں جو زمین میں نہ تو ایمان لانے سے تکبر کرتے ہیں اورنہ ایمان لانے والوں پر بڑائی چاہتے ہیں اور نہ ہی گناہ کر کے فساد چاہتے ہیں اور آخرت کااچھا انجام پرہیزگاروں ہی کیلئے ہے۔(2)
تکبر کرنے اور فساد پھیلانے سے بچیں :
اس آیت سے معلوم ہواکہ تکبر کرنا اور فساد پھیلانااتنے برے کام ہیں کہ ان کی وجہ سے بندہ جنت جیسی عظیم
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…روح البیان، القصص، تحت الآیۃ: ۸۲، ۶/۴۳۶، خازن، القصص، تحت الآیۃ: ۸۲، ۳/۴۴۳، ملتقطاً۔
2…روح البیان ، القصص ، تحت الآیۃ : ۸۳ ، ۶/۴۳۸ ، قرطبی، القصص، تحت الآیۃ: ۸۳، ۷/۲۴۰، الجزء الثالث عشر، ملتقطاً۔