ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا تم نے اس آدمی کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنالیا ہے توکیا تم اُس پر نگہبان ہو؟
{اَرَءَیْتَ: کیا تم نے دیکھا۔} زمانۂ جاہلیت میں عرب کے مشرکین کا دستور تھا کہ ان میں سے ہر ایک کسی پتھرکو پوجتا تھا اور جب کہیں اُسے کوئی دوسرا پتھر اس سے اچھا نظر آتاتو پہلے کو پھینک دیتااور دوسرے کو پوجنے لگتا۔اس آیت میں اسی چیز کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کیا تم نے اس آدمی کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنالیا اورا پنے نفس کی خواہش کو پوجنے لگا اوراسی کا فرمانبردار ہوگیا، وہ ہدایت کس طرح قبول کرے گا۔ توکیا آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اُس پر نگہبان ہو کہ انہیں خواہش پرستی سے روک دو؟(1)
عقل خواہشات سے کیسے مغلوب ہوکر چھپ جاتی ہے؟
یاد رہے کہ بعض اوقات خواہشات کے سامنے بندے کی عقل مغلوب ہو کر چھپ جاتی ہے اور خواہش غالب آکر آدمی کو اپنا غلام بنا لیتی ہے،ایسا کیسے اور کس طرح ہوتا ہے؟ اسے جاننے کے لئے امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا یہ کلام ملاحظہ ہو،چنانچہ آپ فرماتے ہیں ’’ایک دل وہ ہوتا ہے جو خواہشات سے بھرا ہوا اور بری عادات سے آلودہ ہو اور اس میں ایسی خباثیتں ہوتی ہیں جن میں شیطا نوں کے دروازے کھلتے اور فرشتوں کے دروازے بند ہوتے ہیں ۔ ایسے دل میں شر کا آغاز یوں ہوتا ہے کہ اس میں نفسانی خواہشات کا خیال پیدا ہوتا اور کھٹکتا ہے تو دل حاکم یعنی عقل کی طرف دیکھ کر اس سے حکم پوچھنا چاہتا ہے تاکہ صحیح بات واضح ہو جائے اور چونکہ عقل نفسانی خواہشات کی خدمت سے مانوس ہوتی ہے لہٰذاوہ اس کے لیے طرح طرح کے حیلے تلاش کرتی اور خواہش کو پورا کرنے پر اس کی مدد کرتی ہے۔جب وہ دل کی مدد کرتی ہے تو سینہ خواہش کے ساتھ کھلتا ہے اور اس میں خواہش کا اندھیرا پھیلتا ہے کیونکہ عقل کے لشکر اس کا مقابلہ کرنے سے رک جاتے ہیں اور خواہش پھیلنے کی وجہ سے شیطان کی سلطنت مضبوط ہوجاتی ہے اور اس وقت وہ ظاہری زینت، دھوکہ اورجھوٹی تمناؤں کے ذریعے دل کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور دھوکہ دینے کے لیے من گھڑت باتیں دل میں ڈالتا ہے اور یوں ایمان کی حکومت کمزور پڑجاتی ہے یعنی وعدہ اور وعید پر یقین نہیں رہتا اور اُخروی خوف کے یقین کانور ٹھنڈا پڑجاتا ہے کیونکہ خواہش سے ایک سیاہ دھواں دل کی طرف اٹھتا ہے جو اس کے اَطراف کو بھردیتا ہے حتّٰی کہ اس کے انوارمٹ جاتے ہیں اور اس وقت عقل اس آنکھ کی طرح ہوتی ہے جس کے پپوٹے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۴۳، ص۸۰۴۔