Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
329 - 608
کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بنی اسرائیل کو دریا کے پار لے جانے کے بعد قربانیوں  کا انتظام حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے سپرد کر دیا۔ بنی اسرائیل اپنی قربانیاں  حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس لاتے اور وہ ان قربانیوں  کو مَذبَح میں  رکھتے جہاں  آسمان سے آگ اتر کر ان کو کھالیتی۔قارون کو حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اس منصب پر حسد ہوا اس نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کہا: رسالت تو آپ کی ہوئی اور قربانی کی سرداری حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی، میں  کچھ بھی نہ رہا حالانکہ میں  توریت کا بہترین قاری ہوں  ،میں  اس پر صبر نہیں  کرسکتا۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا: ’’یہ منصب حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو میں  نے خود سے نہیں  دیا بلکہ الله تعالیٰ کے حکم سے دیا ہے۔ قارون نے کہا: خدا کی قسم !میں  آپ کی تصدیق نہ کروں  گا جب تک آپ مجھے اس بات کا ثبوت نہ دکھا دیں ۔اس کی بات سن کر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بنی اسرائیل کے سرداروں  کو جمع کیا اور ان سے فرمایا: ’’اپنی لاٹھیاں  لے آؤ۔وہ لاٹھیاں  لے آئے تو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اُن سب کو اپنے خیمے میں  جمع کیا اور رات بھر بنی اسرائیل ان لاٹھیوں  کا پہرہ دیتے رہے۔ صبح کو حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا عصا سرسبز و شاداب ہوگیا اور اس میں  پتے نکل آئے ۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا: ’’اے قارون! تو نے یہ دیکھا ؟قارون نے کہا: یہ آپ کے جادو سے کچھ عجیب نہیں  ۔حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس کے ساتھ اچھی طرح پیش آتے رہے لیکن وہ آپ کو ہر وقت ایذا دیتا تھا اور اس کی سرکشی و تکبر اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ عداوت دم بدم ترقی پر تھی۔ ایک مرتبہ اس قارون نے ایک مکان بنایا جس کا دروازہ سونے کا تھا اور اس کی دیواروں  پر سونے کے تختے نصب کئے ،بنی اسرائیل صبح و شام اس کے پاس آتے، کھانے کھاتے، باتیں  بناتے اور اُسے ہنسایا کرتے تھے۔
	جب زکوٰۃ کا حکم نازل ہوا تو قارون حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس آیا تو اُس نے آپ سے طے کیا کہ درہم و دینار اورمویشی وغیرہ میں  سے ہزارواں  حصہ زکوٰۃ دے گا، لیکن جب گھر جا کراس نے حساب کیا تو اس کے مال میں  سے اتنا بھی بہت کثیر ہوتا تھا ،یہ دیکھ کراس کے نفس نے اتنی بھی ہمت نہ کی اور اس نے بنی اسرائیل کی ایک جماعت کو جمع کرکے کہا : تم نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی ہر بات میں  اطاعت کی ،اب وہ تمہارے مال لینا چاہتے ہیں  تو تم اس بارے میں  کیا کہتے ہو؟ اُنہوں  نے کہا: آپ ہمارے بڑے ہیں  ،جو آپ چاہیں  حکم دیجئے۔ قارون نے کہا: فلانی بدچلن عورت کے پاس جاؤ اور اس سے ایک معاوضہ مقرر کرو کہ وہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر تہمت لگائے،