غافلوں اور علم والوں کا حال:
معلوم ہوا کہ دنیا داروں کی دنیا کو لالچ کی نظر سے دیکھنا اور انہیں ملنے والی دنیا کی تمنا کرناغافل لوگوں کا کام ہے جبکہ اہلِ علم حضرات دنیا سے بے رغبت رہتے ، آخرت میں ملنے والے ثواب پر نظر رکھتے اور یہ ثواب پانے کی امید رکھتے ہوئے نیک اعمال کرتے اور گناہوں سے باز رہتے ہیں اور ا س کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی دنیا کے عیش وعشرت کے حصول کی تمنا کرنے کی بجائے اُخروی ثواب پانے کے لئے کوششیں کرنے کی طرف راغب کرتے ہیں ۔ لہٰذا عوام کو چاہئے کہ ایسی غفلت کا شکار ہونے سے بچیں اور اہلِ علم حضرات کو چاہئے کہ خود بھی زہد و تقویٰ کے پیکر بنیں اور عوام کو بھی اپنی اصلاح کی طرف راغب کرنے کی کوششیں کریں ۔ الله تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
فَخَسَفْنَا بِهٖ وَ بِدَارِهِ الْاَرْضَ- فَمَا كَانَ لَهٗ مِنْ فِئَةٍ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِۗ-وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ(۸۱)
ترجمۂکنزالایمان: تو ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسادیا تو اس کے پاس کوئی جماعت نہ تھی کہ الله سے بچانے میں اس کی مدد کرتی اور نہ وہ بدلہ لے سکا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسادیا تو اس کے پاس کوئی جماعت نہ تھی جو الله کے مقابلے میں اس کی مدد کرتی اور نہ وہ خود (اپنی) مدد کرسکا۔
{فَخَسَفْنَا بِهٖ وَ بِدَارِهِ الْاَرْضَ: تو ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسادیا۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے قارون اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسادیا تو اس کے پاس کوئی جماعت نہ تھی جو الله تعالیٰ کے مقابلے میں اس سے عذاب دور کر کے اس کی مدد کرتی اور نہ ہی وہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے بدلہ لے سکا۔(1)
قارون اور اس کے خزانوں کو زمین میں دھنسائے جانے کا واقعہ:
قارون اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسانے کا واقعہ سیرت و واقعات بیان کرنے والے علماء نے یہ ذکر کیا ہے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، القصص، تحت الآیۃ: ۸۱، ص۸۸۱۔