Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
330 - 608
ایسا ہوا تو بنی اسرائیل حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو چھوڑ دیں  گے۔ چنانچہ قارون نے اس عورت کو ہزار دینار ،ایک ہزار درہم اور بہت سے وعدے کرکے یہ تہمت لگانے پر تیار کرلیا اور دوسرے دن بنی اسرائیل کو جمع کرکے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس آیا اور کہنے لگا: بنی اسرائیل آپ کا انتظار کررہے ہیں  کہ آپ انہیں  وعظ و نصیحت فرمائیں ۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تشریف لائے اور بنی اسرائیل میں  کھڑے ہو کر آپ نے فرمایا: ’’اے بنی اسرائیل !جو چوری کرے گا اس کے ہاتھ کاٹے جائیں  گے، جو بہتان لگائے گا اسے 80 کوڑے لگائے جائیں  گے اور جو زنا کرے گا اوراس کی بیوی نہیں  ہے تو اسے سو کوڑے مارے جائیں  گے اور اگر بیوی ہے تو اس کو سنگسار کیا جائے گا یہاں  تک کہ مرجائے ۔یہ سن کرقارون کہنے لگا : یہ حکم سب کے لئے ہے خواہ آپ ہی ہوں  ۔حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا: ’’خواہ میں  ہی کیوں  نہ ہوں ۔ قارون نے کہا: بنی اسرائیل کا خیال ہے کہ آپ نے فلاں  بدکار عورت کے ساتھ بدکاری کی ہے ۔حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا: ’’اسے بلاؤ۔ وہ آئی تو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا: ’’اس کی قسم جس نے بنی اسرائیل کے لئے دریا پھاڑ ا اور اس میں  راستے بنائے اور توریت نازل کی، تو جو بات سچ ہے وہ کہہ دے ۔وہ عورت ڈر گئی اور الله تعالیٰ کے رسول پر بہتان لگا کر اُنہیں  ایذاء دینے کی جرأت اُسے نہ ہوئی اور اُس نے اپنے دل میں  کہا کہ اس سے توبہ کرنا بہتر ہے اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے عرض کیا کہ جو کچھ قارون کہلانا چاہتا ہے، الله تعالیٰ کی قسم یہ جھوٹ ہے اور اُس نے آپ پر تہمت لگانے کے عِوَض میں  میرے لئے کثیر مال مقرر کیا ہے۔ 
	حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے حضور روتے ہوئے سجدہ میں  چلے گئے اور یہ عرض کرنے لگے :یا رب! عَزَّوَجَلَّ، اگر میں  تیرا رسول ہوں  تو میری وجہ سے قارون پر غضب فرما ۔ الله تعالیٰ نے آپ کو وحی فرمائی کہ میں  نے زمین کو آپ کی فرمانبرداری کرنے کا حکم دیا ہے، آپ اسے جو چاہیں  حکم دیں ۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بنی اسرائیل سے فرمایا: ’’اے بنی اسرائیل! الله تعالیٰ نے مجھے قارون کی طرف بھی اسی طرح رسول بناکربھیجا ہے جیسا فرعون کی طرف بھیجا تھا، لہٰذا جو قارون کا ساتھی ہو وہ اس کے ساتھ اس کی جگہ ٹھہرا رہے اور جو میرا ساتھی ہو وہ ا س سے جدا ہوجائے ۔یہ سن کر سب لوگ قارون سے جدا ہوگئے اور دو شخصوں  کے علاوہ کوئی قارون کے ساتھ نہ رہا ۔پھر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے زمین کو حکم دیا کہ انہیں  پکڑ لے، تو وہ لوگ گھٹنوں  تک دھنس گئے۔ پھر آپ نے یہی فرمایا تو وہ کمر تک دھنس گئے۔ آپ یہی فرماتے رہے حتّٰی کہ وہ لوگ گردنوں  تک دھنس گئے۔ اب وہ بہت منتیں  کرتے تھے اور قارون