تمنا بشری تقاضے سے تھی اور یہ کفر یا گناہِ کبیرہ نہیں ۔(1)
رشک اور حسد کا شرعی حکم:
خیال رہے کہ دُنْیَوی نعمتوں میں غِبْطہ کرنا یعنی کسی کی دولت وغیرہ پر ا س کے زوال کی خواہش کے بغیر رشک کرنا اور اس میں برابری کی تمنا کرنا بھی اس صورت میں منع ہے جب کہ دنیا یا مال کی محبت کے طور پر ہو ،اگر ایسا نہیں تو یہ تمنا جائز ہے، البتہ حسد یعنی یہ تمنا کرنا کہ دوسرے سے نعمت زائل ہوکر اسے مل جائے ،یہ مُطْلَقاً حرام ہے۔
وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَكُمْ ثَوَابُ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًاۚ-وَ لَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ(۸۰)
ترجمۂکنزالایمان: اور بولے وہ جنہیں علم دیا گیا خرابی ہو تمہاری الله کا ثواب بہتر ہے اس کے لیے جو ایمان لائے اور اچھے کام کرے اور یہ انہیں کو ملتا ہے جو صبر والے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جنہیں علم دیا گیا تھا انہوں نے کہا: تمہاری خرابی ہو، الله کا ثواب بہتر ہے اس آدمی کے لیے جو ایمان لائے اور اچھے کام کرے اور یہ انہیں کو دیا جائے گا جو صبر کرنے والے ہیں ۔
{وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ: اور جنہیں علم دیا گیا تھا انہوں نے کہا۔} یعنی بنی اسرائیل کے علماء جو کہ آخرت کے اَحوال کا علم رکھتے اور دنیا سے بے رغبت تھے، انہوں نے تمنا کرنے والوں سے کہا:اے دنیا کے طلبگارو! تمہاری خرابی ہو، جو آدمی ایمان لائے اور اچھے کام کرے ا س کے لئے آخرت میں الله تعالیٰ کا ثواب اس دولت سے بہتر ہے جو دنیا میں قارون کو ملی اور یہ انہیں کو ملتا ہے جو صبر کرنے والے ہیں ۔ یعنی نیک عمل کرناصبرکرنے والوں ہی کا حصہ ہے اور اس کا ثواب وہی پاتے ہیں ۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…روح البیان، القصص، تحت الآیۃ: ۷۹، ۶/۴۳۳، تفسیر کبیر، القصص، تحت الآیۃ: ۷۹، ۹/۱۲، جلالین، القصص، تحت الآیۃ: ۷۹، ص۳۳۴، ملتقطاً۔
2…خازن، القصص، تحت الآیۃ: ۸۰، ۳/۴۴۱، روح البیان، القصص، تحت الآیۃ: ۸۰، ۶/۴۳۴، ملتقطاً۔