انجام ہلاکت ہے؟
{وَ لَا یُسْــٴَـلُ عَنْ ذُنُوْبِهِمُ الْمُجْرِمُوْنَ: اور مجرموں سے ان کے گناہوں کی پوچھ گچھ نہیں کی جاتی۔} اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جب الله تعالیٰ مجرموں کو سزا دیتا ہے تو اسے ان کے گناہ دریافت کرنے کی حاجت نہیں کیونکہ وہ ان کا حال جانتا ہے۔ لہٰذا دوسرے وقت میں ان سے جو پوچھاجائے گا وہ معلومات کیلئے نہیں بلکہ ڈانٹ ڈپٹ کے لئے ہوگا۔(1)
فَخَرَ جَ عَلٰى قَوْمِهٖ فِیْ زِیْنَتِهٖؕ-قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا یٰلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ قَارُوْنُۙ-اِنَّهٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ(۷۹)
ترجمۂکنزالایمان: تو اپنی قوم پر نکلا اپنی آرائش میں بولے وہ جو دنیا کی زندگی چاہتے ہیں کسی طرح ہم کو بھی ایسا ملتا جیسا قارون کو ملا بیشک اس کا بڑا نصیب ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو وہ اپنی زینت میں اپنی قوم کے سامنے نکلا تو دنیاوی زندگی کے طلبگار کہنے لگے: اے کاش ہمیں بھی ایسا مل جاتا جیسا قارون کو ملا بیشک یہ بڑے نصیب والا ہے۔
{فَخَرَ جَ عَلٰى قَوْمِهٖ فِیْ زِیْنَتِهٖ: تو وہ اپنی زینت میں اپنی قوم کے سامنے نکلا۔} منقول ہے کہ ایک مرتبہ ہفتے کے دن قارون بہت جاہ وجلال سے اس طرح نکلا کہ خود سونے کی زین ڈالے ہوئے سفید رنگ کے خچر پر ارغوانی جوڑا پہنے سوار تھا اور اس کے ساتھ ہزاروں لونڈی غلام زیوروں سے آراستہ ، ریشمی لباس پہنے اور سجے ہوئے گھوڑوں پر سوار تھے۔ جب لوگوں نے اس کی اس زینت کو دیکھا تو ان میں سے جو دنیا میں رغبت رکھتے اور دُنْیَوی زندگی کے طلبگار تھے، وہ کہنے لگے: اے کاش ہمیں بھی ایسی شان و شوکت اورمال و دولت مل جاتی جیسی قارون کو دنیا میں ملی ہے۔ بیشک یہ بڑے نصیب والا ہے۔
مفسرین فرماتے ہیں کہ یہاں دنیا میں رغبت رکھنے والوں سے بنی اسرائیل کے مسلمان مراد ہیں ۔ ان کی یہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تفسیرکبیر، القصص، تحت الآیۃ: ۷۸، ۹/۱۶، روح البیان، القصص، تحت الآیۃ: ۷۸، ۶/۴۳۳، ملتقطاً۔