میں حاضر ہو اور اس میں یہ تین برائیاں ہوں (1)خود پسندی۔ (2)مومنوں کو ایذا دینا۔ (3) الله تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا۔ تو ا س کے اعمال کا وزن ایک ذرے کے برابر بھی نہ ہو گا۔(1)
(3)…حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ الله تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’خود پسندی اگر کسی مرد کی صورت میں ہوتی تو وہ انتہائی بدصورت مرد ہوتا۔(2)
(4)…حضرت حسن بن علی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،رسول اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ خود پسندی ستّر سال کے اعمال برباد کر کے رکھ دیتی ہے۔(3)
(5)…حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَاللہ تَعَالٰیوَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں : ’’توفیق بہترین قائد ہے،حسنِ اخلاق بہترین دوست ہے، عقل بہترین ساتھی ہے،ادب بہترین میراث ہے اور خود پسندی سے زیادہ شدید کوئی وحشت نہیں ۔(4)
(6)…حضرت یحیٰ بن معاذ رَحْمَۃُ الله تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’تم خود پسندی سے بچو کیونکہ یہ خود پسندی کرنے والے کو ہلاک کر دیتی ہے اور بے شک خود پسندی نیکیوں کو اس طرح کھا جاتی جیسے آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔(5)
الله تعالیٰ ہمیں اس ہلاکت خیز باطنی مرض سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔خود پسندی کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے امام غزالی کی مشہور تصنیف ’’احیاء العلوم‘‘ کی تیسری جلد اور’’ منہاج العابدین‘‘ سے ’’عجب کا بیان‘‘ مطالعہ فرمائیں ۔(6)
{اَوَ لَمْ یَعْلَمْ: اور کیا اسے نہیں معلوم۔} قارون کا خیال تھا کہ چونکہ میرے پاس علم، زر، زور ،جتھا، جماعت بہت کافی ہے اس لئے مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا اور نہ مجھ پر عذابِ الٰہی آسکتا ہے ۔ اس کے اس خیال کی تردید اس آیت میں فرمائی گئی،کہ تجھ سے پہلے کے کفار تجھ سے زیادہ طاقتور،مالدار، ہنر مند اورجتھے والے تھے۔ مگر نبی کی مخالفت کی وجہ سے جو عذاب آیا تو اسے کوئی دورنہ کرسکا تو تو کیوں اپنی قوت اور مال کی کثرت پر غرور کرتا ہے؟ کیا تو جانتا نہیں کہ اس کا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسند الفردوس، باب العین، ۳/۳۶۴، الحدیث: ۵۱۰۲۔
2…مسند الفردوس، باب العین، ۳/۳۴۰، الحدیث: ۵۰۲۶۔
3…کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، حرف العین، العجب، ۲/۲۰۵، الحدیث: ۷۶۶۶، الجزء الثالث۔
4…شعب الایمان، الثالث والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فصل فی فضل العقل، ۴/۱۶۱، الحدیث: ۴۶۶۱۔
5…شعب الایمان، السابع والاربعون من شعب الایمان۔۔۔الخ،فصل فی الطبع علی القلب،۵/۴۵۲،روایت نمبر: ۷۲۴۸۔
6…دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ سے بھی یہ دونوں کتابیں شائع ہو چکی ہیں، وہاں سے بھی خرید کر مطالعہ کر سکتے ہیں۔