Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
324 - 608
گناہوں  کی پوچھ گچھ نہیں  کی جاتی ۔
{قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ عِنْدِیْ:کہا :یہ تو مجھے ایک علم کی بنا پرملا ہے جو میرے پاس ہے۔} قارون نے نصیحت کرنے والوں  کو جواب دیتے ہوئے کہا: یہ مال تو مجھے ایک علم کی بنا پرملا ہے جو میرے پاس ہے۔ اس علم سے کیا مراد ہے اس کے بارے میں  مفسرین کا ایک قول یہ ہے کہ اس سے توریت کا علم مرادہے ۔ایک قول یہ ہے کہ اس سے علم ِکیمیا مراد ہے جو قارون نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے حاصل کیا تھا اور اس کے ذریعے سے وہ (ایک نرم دھات) رانگ کو چاندی اور تانبے کو سونا بنالیتا تھا ۔ایک قول یہ ہے کہ اس سے تجارت ، زراعت اور پیشوں کا علم مراد ہے۔(1)
خود پسندی کی حقیقت اور اس کی مذمت:
	قارون کے ان جملوں  میں  خود پسندی کا عُنْصر بالکل واضح ہے۔خود پسندی کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ اس بات کا اظہار کرے کہ اسے نیک عمل کی توفیق یا نعمت الله تعالیٰ کے علاوہ کسی چیز مثلاً نفس یا مخلوق سے حاصل ہوئی ہے۔خود پسندی کی ضد احسان ہے اور احسان کا مطلب یہ ہے کہ بندہ ا س بات کا اظہار کرے کہ اسے نیک عمل کی توفیق یا نعمت الله تعالیٰ کی توفیق اور تائید سے حاصل ہوئی ہے۔(2)
	یاد رہے کہ خود پسندی ایک ایسی باطنی بیماری ہے جس کی وجہ سے بندہ الله تعالیٰ کی توفیق اور تائید سے محروم ہو جاتا ہے اور جب بندہ الله تعالیٰ کی توفیق اور تائید سے محروم ہو جائے تو بہت جلد ہلاک و برباد ہو جاتا ہے ۔اس کی مذمت کے حوالے سے یہاں  4اَحادیث اور بزرگانِ دین کے2 اَقوال ملاحظہ ہوں ۔
(1)…حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’تین چیزیں  ہلاکت میں  ڈالنے والی ہیں ۔(1)بخل جس کی پیروی کی جائے۔(2)نفسانی خواہشات جن کی اتباع کی جائے۔ (3) آدمی کا اپنے آپ کو اچھا سمجھنا۔(3)
(2)… حضرت ابو درداء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: اگر الله تعالیٰ کے بندوں  میں  سے کوئی بندہ آسمان و زمین والوں  کے عمل کے برابر نیکی اور تقویٰ لے کر الله تعالیٰ کی بارگاہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…روح البیان، القصص، تحت الآیۃ: ۷۸، ۶/۴۳۱-۴۳۲، خازن، القصص، تحت الآیۃ: ۷۸، ۳/۴۴۱، ملتقطاً۔
2…منہاج العابدین، العقبۃ السادسۃ، القادح الثانی: العجب، ص۱۷۹۔
3…شعب الایمان، الحادی عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ، ۱/۴۷۱، الحدیث: ۷۴۵۔