Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
322 - 608
تکبر کی سب سے بری قسم ہے ،کیونکہ مال پر تکبر کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جو اپنے گھوڑے اور مکان پر تکبر کرتا ہے اب اگر اس کا گھوڑا مرجائے یا مکان گرجائے تو وہ ذلیل و رُسوا ہوتاہے اور جو شخص بادشاہوں  کی طرف سے اختیارات پانے پر تکبر کرتاہے اپنی کسی ذاتی صفت پر نہیں  ، تو وہ اپنا معاملہ ایسے دل پر رکھتا ہے جو ہنڈیا سے بھی زیادہ جوش مارتا ہے، اب اگر اس سلسلے میں  کچھ تبدیلی آجائے تو وہ مخلوق میں  سے سب سے زیادہ ذلیل ہوتا ہے اور ہر وہ شخص جو خارجی اُمور کی وجہ سے تکبر کرتاہے اس کی جہالت ظاہر ہے کیونکہ مالداری پر تکبر کرنے والا آدمی اگر غور کرے تو دیکھے گا کہ کئی یہودی مال و دولت اور حسن وجمال میں  اس سے بڑھے ہوئے ہیں ، تو ایسے شرف پر افسوس ہے جس میں  یہودی تم سے سبقت لے جائیں  اور ایسے شرف پر بھی افسوس ہے جسے چور ایک لمحے میں  لے جائیں  اور اس کے بعد وہ شخص ذلیل اور مُفلِس ہوجائے۔(1) اللهتعالیٰ سب مسلمانوں  کو مال و دولت کی وجہ سے پیدا ہونے والے تکبر سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَحْسِنْ كَمَاۤ اَحْسَنَ اللّٰهُ اِلَیْكَ وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ(۷۷)
ترجمۂکنزالایمان: اور جو مال تجھے الله نے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر طلب کر اور دنیا میں  اپنا حصہ نہ بھول اور احسان کر جیسا الله نے تجھ پر احسان کیا اور زمین میں  فساد نہ چاہ بے شک الله فسادیوں  کو دوست نہیں  رکھتا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جو مال تجھے الله نے دیا ہے اس کے ذریعے آخرت کا گھر طلب کر اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھول اور احسان کر جیسا الله نے تجھ پر احسان کیا اور زمین میں  فساد نہ کر، بے شک الله فسادیوں  کو پسند نہیں  کرتا۔
{وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَكَ مِنَ الدُّنْیَا: اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھول۔} آیت کے اس حصے کی تفسیر میں  یہ بھی کہا گیا ہے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…احیاء علوم الدین، کتاب ذم الکبر والعجب، بیان الطریق فی معالجۃ الکبر واکتساب التواضع لہ، ۳/۴۴۴۔