وہ یہ تمام باتیں اس لیے کرتا ہے کہ مالدارہونے کی وجہ سے اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے جب کہ اس شخص کو فقر کی وجہ سے حقیر جانتا ہے اور یہ سب کچھ اس لیے ہوتا ہے کہ وہ فقر کی فضیلت اور مالداری کے فتنے سے بے خبر ہوتا ہے۔ الله تعالیٰ نے اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
’’فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًا‘‘(1)
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو اس نے اپنے ساتھی سے کہا اور وہ اس سے فخر و غرور کی باتیں کرتا رہتا تھا۔ (اس سے کہا) میں تجھ سے زیادہ مالدار ہوں اور افراد کے اعتبار سے زیادہ طاقتور ہوں ۔
حتّٰی کہ دوسرے نے جواب دیا:
’’اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَّ وَلَدًاۚ(۳۹)فَعَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یُّؤْتِیَنِ خَیْرًا مِّنْ جَنَّتِكَ وَ یُرْسِلَ عَلَیْهَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ فَتُصْبِحَ صَعِیْدًا زَلَقًاۙ(۴۰)اَوْ یُصْبِحَ مَآؤُهَا غَوْرًا فَلَنْ تَسْتَطِیْعَ لَهٗ طَلَبًا‘‘(2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اگر تو مجھے اپنے مقابلے میں مال اور اولاد میں کم دیکھ رہا ہے۔ تو قریب ہے کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے بہتر عطا فرما دے اور تیرے باغ پر آسمان سے بجلیاں گرادے تو وہ چٹیل میدان ہوکر رہ جائے۔ یا اس باغ کا پانی زمین میں دھنس جائے پھر تو اسے ہرگز تلاش نہ کرسکے۔
تو اس پہلے شخص کا قول مال اور اولاد کے ذریعے تکبر کے طور پر تھا، پھر الله تعالیٰ نے اس کے انجام کا یوں ذکر فرمایا:
’’یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُشْرِكْ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا‘‘(3)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے کاش!میں نے اپنے رب کےساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہوتا۔
قارون کا تکبر بھی اسی انداز کا تھا۔(4)
مال و دولت کی وجہ سے پیدا ہونے والے تکبر کا علاج:
امام محمد غزالی رَحْمَۃُ الله تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’(مال و دولت،پیرو کاروں اور مددگاروں کی کثرت کی وجہ سے تکبر کرنا)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…کہف:۳۴۔
2…کہف:۳۹۔۴۱۔
3…کہف:۴۲۔
4…احیاء علوم الدین، کتاب ذم الکبر والعجب، بیان ما بہ التکبر، ۳/۴۳۲۔